.

اسرائیل کے غزہ پر دوبارہ حملے،ہزاروں فلسطینی دربدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ پر دوبارہ فضائی حملے شروع کردیے ہیں جس کے بعد ہزاروں فلسطینی بے سروسامانی کے عالم میں جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کا رُخ کررہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے مشرقی علاقے شجاعیہ پر تازہ بمباری کی ہے۔شجاعیہ میں ایک ماہ پہلے بھی اسرائیلی طیاروں نے تباہ کن بمباری کی تھی جس سے بیسیوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔اسرائیلی طیاروں نے زیتون اور شعاف کے علاقوں پر بھی منگل کی شام بمباری کی ہے جس کے بعد ان علاقوں سے پے درپے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا ہے کہ نہتے فلسطینی اسرائیلی جارحانہ حملوں سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اُنروا کے زیر اہتمام اسکولوں میں پناہ لینے کے لیے جارہے ہیں۔اسرائیل نے حماس کے ساتھ چوبیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی فضائی حملے دوبارہ شروع کردیے ہیں اور قاہرہ میں مصر کی ثالثی میں جنگ بندی کے لیے فلسطینی وفد سے بالواسطہ مذاکرات میں شریک اپنے وفد کو بھی واپس بلا لیا ہے۔

ایک مغربی خبررساں ادارے نے اپنے نمائندے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیارے نے غزہ شہر کے مشرق میں ایک میزائل فائر کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اپنے تئیں دعویٰ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں ''دہشت گردی کے اہداف'' کو نشانہ بنا رہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی اسرائیل کی جانب غزہ سے تین راکٹ فائر کیے کے بعد نئے فضائی حملے شروع کیے ہیں۔

ان مبینہ راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مذاکراتی ٹیم کوقاہرہ سے واپس آنے کا حکم دیا ہے۔اسرائیلی اخبار ہارٹز نے سرکاری عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاہرہ میں فلسطینی وفد سے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوگئے ہیں۔

اسرائیل اور حماس نے مصر کی ثالثی میں سوموار کی شب غزہ کی پٹی میں مزید چوبیس گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع سے اتفاق کیا تھا تاکہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے معاہدے کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جاسکے لیکن آج فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مصر گذشتہ ایک ہفتے سے اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں ثالثی کا کردار ادا کررہا تھا۔اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں پانچ روز کے لیے جنگ بندی ہوئی تھی اور اس کی مدت سوموار کی نصف شب ختم ہو گئی تھی۔

فلسطینی وفد میں شامل صدر محمود عباس کی فتح تحریک کے رہ نما عزام الاحمد نے اسرائیل پر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے منفی رویے کی وجہ سے مستقل جنگ بندی کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور صہیونی فوج نے غزہ پر دوبارہ فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔