.

داعش کے مقابلے کے لیے کرد فوجی خواتین بھی تیار

کرد خواتین کی جنگی تاریخ پرانی ہے، امریکی دانشور ڈاکٹر جوزف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے عسکریت پسندوں نے عراق اور شام کی سرحدوں سے باہر تک خوفناک انتقام کو پھیلانا شروع کر رکھا ہے۔ بہت سے کرد اس معاملے میں سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ بشمول کردستان فوج البیش المرکہ میں موجود خواتین داعش کی سرگرمیوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔

کرد فوج سے وابستہ خواتین کی پریشانی داعش کی حال ہی میں اقلیتوں اور خواتین کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود یہ خواتین اپنے کمانڈروں سے کہہ رہی ہیں کہ انہیں انتہا پسندوں کے مقابلے کے لیے محاذ کے خط اول پر بھیجا جائے۔

کرد امور کے ماہر امریکی دانشور ڈاکٹر جوزف کے مطابق ''کرد فوج میں ان خواتین کی موجودگی اس امر کی تصدیق ہے کہ کرد معاشرے میں خواتین کو بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ "

ڈاکٹر جوزف کے مطابق کرد مرد اور خواتین کم ہی فوج میں خدمات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مانیٹر نیوز نامی ایک ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے ایک کرد فوجی خاتون نے کہا "میں اب نہ صرف شادی شدہ ہوں بلکہ ایک بچی کی ماں ہوں لیکن اس کے باوجود انتہا پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں آئی ہوں، کیونکہ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔"

شائما خلیل نامی ایک اور کرد فوجی خاتون کا کہنا تھا " داعش کے خلاف لڑنے کی ایک وجہ اپنے ملک کا دفاع ہے اور دوسری وجہ خواتین کا داعش سے تحفظ کرنا ہے۔"

ڈاکٹر جوزف نے کردوں کے بہادر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے عظیم مسلمان فاتح صلاح الدین ایوبی کے بارے میں بتایا وہ بھی کرد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے لشکر میں بھی خواتین فوجی شامل تھیں، اس لیے کرد خواتین کے جنگوں میں حصہ لینے کی تاریخ پرانی ہے۔

امریکی دانشور نے کہا " کرد مسلمان سنی بھی ہیں اور اعتدال پسند بھی جبکہ ان کے مقابلے میں داعش کے عسکریت پسند انتہا پسند سنی ہیں۔"