.

لیبیا فضائی حملے، ہمسایہ ملک ملوث ہو سکتے ہیں: سرکاری حکام

فضائی کارروائی بھگوڑے جرنیل جنرل حفتر نے کی: کمانڈر کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سرکاری فوج کے بھگوڑے جرنیل خلیفہ حفتر کے ایک کمانڈر نے دعوی کیا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت طرابلس پر حفتر کی فضائیہ نے کارروائی کی تھی۔ اس کارروائی کا مقصد اسلامی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ تاکہ کئی ہفتوں سے طرابلس میں جاری خوں ریزی پر قابو پایا جا سکے۔

طرابلس کے مشرقی شہر مسراتا میں لڑائی کرنے والے اور لیبیا کے مغربی حصے میں زنتون کے علاقے میں موجود عسکری ملیشیا سے متعلق جنگ جو کئی ہفتوں سے لیبیا کو تصادم کے ماحول میں ڈالے ہوئے ہیں۔ واضح رہے ان دونوں علاقوں کے عسکریت پسندوں نے معمر قذافی کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دونوں طرف کے جنگجو زمینی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی حد تک توپ خانے کا استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان جنگ جووں میں سے کوئی گروہ بھی جنگی طیاروں کے استعمال کا اب تک سوچا بھی نہ تھا۔ حتی کہ لیبیا کی سرکاری فضائیہ بھی بری طرح مجروح ہو چکی ہے اور مکمل آپریشنل ہونے کے لیے اسے مرمت کے علاوہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

لیبیا کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے پیر کے روز کی جنگی کارروائی میں کسی ہمسایہ ملک نے حصہ ڈالا ہو۔ طرابلس کے ایک سرکاری ذمہ دار محمد الکریوی کے مطابق اس فضائی کارروائی میں 5 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو ئے ہیں۔

دریں اثنا امریکا اور مصر کے حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان کے ملک اس کارروائی میں شریک نہیں ہیں۔

واضح رہے اس سے پہلے یہ خبریں آ چکی ہیں کہ لیبیا کی صورت حال مصری سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس لیے مصر لیبیا میں کارروائی کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ خیال رہے 2011 میں صدر قذافی کا تختہ الٹنے کے لیے نیٹو فورسز نے باغیوں کی مدد کی تھی۔

ان تازہ واقعات کے حوالے سے طرابلس کے باسیوں کا کہنا ہے '' ہم نے آدھی رات کو جیٹ طیاروں کی آوازیں سنیں، اس دوران دھماکوں کی آوازیں بھی آئیں۔''

دوسری جانب حکومت نے ان طیاروں کے بارے میں سرکاری طور پر کہا ہے کہ '' کچھ نہیں جانتے یہ جنگی طیارے کس کے تھے اور کس طرف سے آئے تھے۔''