.

موصل: "داعش" کے ٹھکانوں پر 15 امریکی فضائی حملے

اوباما کی عراق میں کارروائی محدود رکھنے کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام "داعش" کے ٹھکانوں پر امریکی فوج نے حملے تیز کر دیے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی شہر موصل کے مرکزی ڈیم کا قبضہ چھڑانے کے لیے ڈیم کے قریب داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فوج نے 15 فضائی حملے کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز موصل ڈیم کے قریب امریکی فوج کے جنگی طیاروں اور بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی مدد سے داعش کے 09 ٹھکانے اور آٹھ بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ بمباری کے باوجود داعشی جنگجوؤں اور کرد فوجیوں کے درمیان ڈیم کے قریب گھمسان کی جنگ بھی جاری ہے۔

ادھر نینویٰ کے گورنر کا کہنا ہے کہ نیم خودمختار صوبہ کردستان کی فوج البشمرگہ نے موصل ڈیم کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔ عراقی فوج کے ایک ترجمان نے بھی موصل ڈیم پر داعش کا قبضہ ختم کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ زمینی اور فضائی آپریشن میں عراقی فوج نے کرد فوجیوں کی بھرپور مدد کی ہے۔

قبل ازیں عراقی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ موصل ڈیم کے قریب قبضہ جمائے داعشی جنگجوؤں پر عراقی فوج اور کرد فورسز نے مشترکہ حملہ کیا ہے جس کے بعد عسکریت پسند وہاں سے فرار ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں عراقی فوج کے ترجمان جنرل قاسم عطاء کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ موصل ڈیم کے قریب داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی اور فضائی آپریشن میں عراقی فوج نے بھرپور معاونت کی ہے۔

ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے عراق میں جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے کانگریس کو اعتماد میں لیا ہے۔ کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موصل ڈیم کو داعش کے جنگجوؤں کے قبضے سے چھڑانا ضروری تھا کیونکہ اس ڈیم پر عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد نہ صرف عراقی شہریوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہو گئی تھیں بلکہ وہاں پر موجود امریکی شہری اور بغداد میں امریکی سفارت خانہ بھی خطرے کی زد میں آ گئے تھے۔ تاہم انہوں نے کانگریس کو یہ بھی یقین دلایا کہ عراق میں امریکی فوج کے فضائی حملے محدود رہیں گے۔

درایں اثناء برطانیہ نے بھی عراق میں شورش زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے معاونت کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فالن نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شورش زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو نکالنے میں ہرممکن مدد فراہم کرے گا۔

برطانوی اخبار 'ٹائمز' نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی عراق اور کردستان کے قرب و جوار میں دولت اسلامی سے فرار اختیار کرنے والے شہریوں کی محفوظ مقامات پرمنتقلی کے لیے برطانوی حکومت نے ریسکیو ہیلی کاپٹر، چھ جنگی جہاز اور متعدد بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے عراق کے صوبہ کردستان بھیج دیے ہیں۔