.

غزہ میں 24 گھنٹے کے لیے جنگ بندی میں توسیع

بالواسطہ مذاکرات میں حماس کا غزہ کی پٹی کی ناکا بندی ختم کرنے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی میں مزید چوبیس گھنٹے کی توسیع کا اعلان کیا ہے تاکہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے معاہدے کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جاسکے۔

قاہرہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بعد مصری حکومت نے پانچ روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک گھنٹا قبل اس میں توسیع کی نوید دی ہے۔اسرائیلی اور فلسطینی ذراِئع نے اس کی تصدیق کی ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے ایک سرکاری بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''جنگ بندی کا کوئی سمجھوتا ابھی طے نہیں پایا ہے اور مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔اس لیے فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں نے چوبیس گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع سے اتفاق کیا ہے''۔

مصر گذشتہ ایک ہفتے سے اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے لیکن ان کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے سمجھوتے پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں پانچ روزہ جنگ بندی کی مدت سوموار کی نصف شب ختم ہو گئی تھی۔

اس دوران غزہ میں حماس کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دوہزار سے بڑھ گئی ہے۔اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے فلسطینی شہداء کی تعداد 1976 بتائی ہے جبکہ اسرائیلی بمباری سے ہزاروں مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں مصری مذاکرات کاروں نے سوموار کی شب اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقات کی تھی لیکن وہ ان کے درمیان حائل وسیع خلیج کو پاٹنے میں ناکام رہے تھے۔اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) بدستور اپنے اس مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کا گذشتہ سات سال سے جاری محاصرہ ختم کرے جبکہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کی ضمانت طلب کررہا ہے۔

اسرائیل نے 2007ء سے غزہ کی پٹی کی مکمل ناکا بندی کررکھی ہے۔اس کے نتیجے میں قریباً اٹھارہ لاکھ فلسطینی دنیا کی ایک کھلی جیل میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں۔وہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی بہم رسانی کے لیے بھی اسرائیل اور مصر کے محتاج ہیں۔

مصر نے فریقین کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے یہ مفاہمتی تجویز پیش کی ہے کہ اسرائیل ایک حد تک ناکا بندی تو برقرار رکھے لیکن اس میں غزہ کے مکینوں اور اشیائے ضروریہ کی نقل وحمل کے لیے نرمی کردی جائے۔

اس نئی مصری تجویز کے تحت حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جائے گا بلکہ غزہ کی سرحدی گذرگاہوں کا کنٹرول فلسطینی صدر محمود عباس کے تحت سکیورٹی فورسز کے سپرد کردیا جائے گا اور وہی غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کی بین الاقوامی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کریں گی۔واضح رہے کہ حماس نے 2007ء میں غزہ میں اپنی حکومت کے قیام کے چند ماہ کے بعد وہاں سے صدر عباس کے تحت سکیورٹی فورسز کو نکال باہر کیا تھا۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوا کہ آیا حماس نے مصر کی اس نئی تجویز سے اتفاق کیا ہے یا نہیں۔حماس کے رہ نما حالیہ دنوں میں متعدد مرتبہ یہ کَہ چکے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے جبکہ اسراِئیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی سرحدی گذرگاہوں (بارڈر کراسنگز) پر کسی حد تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے تا کہ وہاں سے غزہ میں اسلحہ یا ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے سامان کی اسمگلنگ کو روکا جاسکے۔

قاہرہ میں موجود فلسطینی مذاکراتی وفد میں شامل اسلامی جہاد کے رہ نما زیاد نخلع نے کہا ہے کہ ''وہ غزہ دوبارہ لڑائی کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ہیں۔جنگ ہمارے پیچھے رہ گئی ہے اور ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں''۔

مصر اور ناروے نے حماس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے اور اس پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے قاہرہ میں غزہ کی پٹی کی تعمیرنو کے لیے ایک ڈونرز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔ناروے کے وزیرخارجہ بوئرج برینڈے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک اس عالمی امدادی کانفرنس کا شریک میزبان ہوگا اور مصرکی ثالثی میں اگر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو پھر قاہرہ میں اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے دعوت نامے جاری کردیے جائیں گے۔تاہم انھوں نے اس کے انعقاد کی تاریخ نہیں بتائی ہے۔

درایں اثناء یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس منگل کو قطر پہنچ رہے ہیں۔وہ آیندہ جمعہ تک وہیں قیام کریں گے اور دوحہ میں مقیم حماس کے سربراہ خالد مشعل سے جنگ بندی کی نئی تجاویز اور غزہ کی تعمیر نو سے متعلق مجوزہ امدادی کانفرنس کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔