.

اردنی فضائیہ کا بھگوڑا کپتان شام میں ہلاک

داعش میں شامل کپتان الحسکہ میں لڑائی کے دوران مارا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسر پیکار جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) میں شامل اردن کی شاہی فضائیہ کا ایک بھگوڑا کپتان لڑائی کے دوران مارا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کپتان احمد عطاءاللہ شبیب المجالی نے اردنی فضائیہ کو خیرباد کَہ پہلے شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ میں شمولیت اختیار کی تھی۔بعد میں وہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہوگیا تھا۔

اردن کے ایک سلفی ذریعے کا کہنا ہے کہ ''وہ منگل کو شام کے شمال مشرقی شہر الحسکہ میں شہید ہوگیا ہے۔اس کا خاندان اردن کے جنوب میں واقع علاقے کرک میں لوگوں سے اس شہادت پر مبارک بادیں وصول کررہا ہے''۔اس ذریعے کا مزید کہنا ہے کہ ایک اور اردنی جہادی بھی شام میں مارا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مجالی خاندان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کپتان احمد عطاء اللہ نے فضائیہ میں اپنے یونٹ سے رخصت لے لی تھی اور وہ ترکی کے راستے شام چلا گیا تھا جہاں وہ صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں میں شامل ہوگیا تھا۔

اردن کے سلفیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زیادہ جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

درایں اثناء برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شام میں داعش کے پچاس ہزار سے بھی زیادہ جنگجو لڑرہے ہیں اور انھوں نے صرف گذشتہ ماہ چھے ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو بھرتی کیا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ دولت اسلامی کے شام میں ان پچاس ہزار جنگجوؤں میں بیس ہزار سے زیادہ غیر شامی یعنی غیرملکی ہیں۔شامی آبزرویٹری شام میں موجود اپنے وسیع نیٹ ورک کی فراہم کردہ اطلاعات پر انحصار کرتی ہے لیکن اس کی داعش کے جنگجوؤں کے اعدادوشمار سے متعلق اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔