.

اسرائیل کو سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے: حماس

تل ابیب جنگ بندی توڑنے کا مرتکب: فلسطینی مذاکرات کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت دو ہفتے تک غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے جاری بات چیت ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گئی ہے جس کے بعد غزہ میں فریقین نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔

گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب قاہرہ میں فلسطینی مذاکرات کاروں نے اسرائیل پر جنگ بندی توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کے مطابق مذاکراتی وفد میں شامل اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" کے رہ نما عزت الرشق نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تمام ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے جبکہ مذاکراتی وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے بھی اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ دونوں رہ نماؤں نے اپنے بیانات میں ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

قاہرہ میں موجود فلسطینی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں جنگ بندی کی کوشش ناکام ہو گئی ہیں۔ اسرائیل نے جنگ بندی توڑتے ہوئے غزہ کی پٹی پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ حماس کے لیڈر عزت الرشق نے کہا کہ فائر بندی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے بعد اسرائیل بھی سکون کا سانس نہیں لے سکے گا۔

الفتح کے لیڈر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے کہا کہ جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں لیکن ان کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ فریقین نے جنگ بندی کی مدت میں مزید چوبیس گھنٹے کی توسیع پر اتفاق کے ساتھ ساتھ مستقل جنگ بندی کے ایک متفقہ فارمولے پر بھی اتفاق کر لیا تھا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کے غیر لچک دار طرز عمل کے نتیجے میں ان کی مساعی غارت گئی ہیں۔

ادھر غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری کے ردعمل میں انہوں نے تل ابیب کے قریب "بن گوریون" ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ القسام نے غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ بن گوریون ہوائی اڈے سے اپنی پروازوں کی آمد و رفت روک لیں ورنہ کسی نقصان کی ذمہ داری فلسطینی مزاحمت کاروں پر عائد نہیں ہو گی۔

القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل کی مختلف تنصیبات پر راکٹ حملے اس وقت کیے گئے جب قابض صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی پر بمباری شروع کر دی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ہوائی اڈے مجاھدین کا اہم ترین ہدف ہیں۔