.

تکریت میں مزاحمت کے بعد عراقی فوج کا آپریشن معطل

داعش پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ صوبہ تکریت میں سخت مزاحمت کا اعتراف کرتے ہوئے مزید فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔

عراقی فوج کے آپریشنز کنٹرول روم کے ایک بیان میں ‌بتایا گیا ہے کہ فوج کو تکریت میں عسکریت پسندوں‌ کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، جس کے بعد فوج نے عارضی طور پر آپریشن معطل کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں انٹرنیٹ ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ 'یو ٹیوب' پر ایک فوٹیج بھی لوڈ کی ہے جس میں شہر کو فوجی دستوں سے خالی دکھایا گیا ہے۔

قبل ازیں عراقی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تکریت میں‌ دولت اسلامی کے جنگجوں کےخٌلاف پیش قدمی کر رہی ہے۔ فوج کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ضلع صلاح الدین کا قبضہ چھڑا لیا گیا ہے اور شہر سے داعش کے جنگجووں کو نکال دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی فورسز نے چند روز قبل تکریت کے جنوب میں الدیوم، العوجہ، مغرب میں شجرۃ الدر اور جنوب مغرب کے متعدد مقامات پر داعش کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ شہر میں داعش کے ٹھکانوں‌ پر فضائی بمباری بھی کی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تکریت کے کئی مقامات پر زوردار دھماکوں کی آوازیں ‌سنائی دیتی رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ‌ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق عراقی ملٹری پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ فوج تیزی کے ساتھ شہر میں داعش کےخٌلاف پیش قدمی کر رہی ہے تاہم بعض مقامات پر بچھائی گئی بارودی سرنگیں فوج کی راہ میں‌ رکاوٹ بن رہی ہیں۔ فوجی افسر نے اعتراف کیا کہ عسکریت پسندوںً کے خلاف کارروائی میں ‌انہیں داعش کے عناصر کی جانب سے سخت مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے عراق میں‌ داعش کی سرکوبی کے لیے "طویل المیعاد" حکمت عملی اپنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاوس میں ‌ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے خبردار کیا کہ شام اور عراق کے شہروں پر اپنی خلافت قائم کرنے والی تنظیم "داعش" عراق سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔