.

جنگ بندی بات چیت ختم، اسرائیلی مذاکرات کار واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی پر مستقل جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری بات چیت بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔

دونوں جانب سے جنگ بندی توڑنے کی ذمہ اداری ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہے تاہم گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر بمباری میں ایک شیر خوار بچی سمیت تین افراد شہید ہو گئے۔

القدس سے العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے کم سے کم 25 مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر متعدد راکٹ داغے گئے تھے جسے جنگ بندی توڑنے پر محمول کیا گیا اور تل ابیب نے مصر میں موجود اپنے مذاکرات کار واپس بلا لیے ہیں۔ اسرائیلی مذاکرات کاروں کی واپسی کے بعد غزہ کی پٹی میں قیام امن کی مساعی ایک مرتبہ پھر ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاھو کی خصوصی ہدایت پر مذاکرات کار واپس بلائے گئے ہیں۔ فوری طورپر ان مذاکرات کاروں کی قاہرہ واپسی کا کوٕئی امکان بھی نہیں ‌ہے۔

تل ابیب حکومت کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے تین گھنٹے پیشتر فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے۔

ایک راکٹ دارالحکومت تل ابیب میں بھی گرا ہے تاہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی اور مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔غزہ کی پٹی سے 80 کلومیٹرکے علاقے تک پھیلی یہودی کالونیوں اور تل ابیب کے شہریوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور جلد از جلد زمین دوز بنکروں میں چلے جائیں کیونکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے مزید راکٹ حملوں کا خدشہ موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی کوششوں کی ناکامی اور راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔

دوسری جانب حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ توڑنے میں پہل کا الزام مسترد کر دیا ہے۔حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انہیں جنگ بندی کی مہلت ختم ہونے سے قبل غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ دونوں مذاکراتی وفود قاہرہ میں بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے کہ اچانک اسرائیلی مذاکرات کاروں نے بات چیت کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مذاکرات ختم کر دیے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان مارک ریگویو نے صہیونی شہر بئر سبع پر فلسطینی راکٹ حملوں کی شدید الفاظ میں‌مذمت کرتے ہوٕئے انہیں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جبکہ فوج کے ترجمان نے دھکی دی ہے کہ غزہ کی پٹی سے داغے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں‌فوج سخت ترین کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔