.

سعودی عرب کی عراق کے لیے پانچ کروڑ ڈالرز کی امداد

ڈبلیو ایچ او رقم سے متاثرہ عراقیوں کو صحت کی سہولتیں مہیا کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عراق میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ذریعے پانچ کروڑ ڈالرز کی رقم عطیہ کے طور پر دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی اس امدادی رقم کو عراق کے خانہ جنگی سے متاثرہ پانچ صوبوں الانبار ،نینویٰ ،صلاح الدین ،دیالا اور شمالی کردستان میں دربدر ہونے والے شہریوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے مختلف منصوبوں پر خرچ کرے گا۔

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام نے گذشتہ قریباً ڈھائی ماہ سے عراق کے ان صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور ان کی عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔مذکورہ پانچوں صوبوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے۔صوبہ الانبار میں صحت کے 153 مراکز میں سے اس وقت صرف چالیس کام کررہے ہیں۔اس کے دو بڑے شہروں فلوجہ اور رمادی میں صرف دو مرکزی اسپتال محدود پیمانے پر کام کررہے ہیں۔

شمالی شہروں موصل ،سنجار ،تل عفر ،تکریت اور حمدانیہ میں لڑائی کے نتیجے میں اسپتال اور صحت کے مراکز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔تل عفر کے مرکزی اسپتال کا ایک حصہ دھماکوں سے تباہ ہوگیا تھا اور اب وہ جزوی طور پر کام ہورہا ہے۔

عراق میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر سید جعفر حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران سے پہلے ہی اس ملک میں صحت کا نظام بحران کا شکار تھا اور سکیورٹی کی موجودہ ابتر صورت حال سے لوگ صحت کے حوالے سے مزید مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔

شمالی عراق میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین بھی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ان کے کیمپوں میں ہیضے ،پیچش ، خسرے اور ہیپاٹائٹس ای جیسے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ سعودی عطیے سے ان امراض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے،عراقیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت ادویہ مہیا کی جائیں گی اور کم سن بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔

سعودی امداد سے کم خوراکی سے متاثرہ ساڑھے تین لاکھ افراد کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ان میں پانچ سال سے کم عمر بچے ،حاملہ خواتین اور بھوک کے نتیجے میں امراض کا شکار ہونے والے لوگوں کو خوراک اور ادویہ مہیا کی جائے گی۔