.

کرد وزراء دوبارہ عراقی حکومت میں شامل

نوری المالکی کے استعفیٰ کا مطالبہ پورا ہونے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے کرد وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بتایا ہے کہ نوری المالکی کی کابینہ ملاقاتوں میں شمولیت سے معذرت کرنے والے کرد وزراء نے ایک بار پھر انتظامی معاملات سنبھال لئے ہیں۔ ہوشیار زیباری کا کہنا ہے"میں بطور وزیر خارجہ بغداد میں آ گیا ہوں۔"

نوری المالکی کی جانب سے جون میں الزام لگایا تھا کرد علاقوں میں دہشت گردوں کو پناہ دی گئی ہے۔ انہی الزامات کے ردعمل کے طور پر کرد وزراء نے اعلان کیا تھا کہ وہ عراق کی عبوری کابینہ کی ملاقاتوں کا بائیکاٹ کریں گے اور بغداد کی انتظامیہ نے دو کرد شہروں میں کارگو فلائٹس روک دی۔

مالکی نے جون میں کردستان کے رہنمائوں کی جانب سے عراق سے علاحدگی کے ریفرنڈم کو منعقد کروانے کی رفتار تیز کرنے کے اعلان پر اپنے ردعمل کے طور پر کہا تھا ہم کسی ایسی تحریک پر خاموش نہیں رہ سکتے ہیں جو کہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایجنڈے کو مسلط کرنے کی کوشش کرے۔

کرد صدر مسعود بارزانی کے ایک ترجمان نے مالکی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاگل پن کا شکار ہوگئے ہیں اور ان الزامات کے بعد ان کو استعفیٰ دے دینا چاہئیے ہے۔

"مالکی پاگل ہو چکے ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔"

مالکی کو مخاطب کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ"کردستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اربیل ہمیشہ مظلوم عوام کے لئے محفوظ جگہ ثابت ہوا ہے۔ ان میں آپ خود بھی شامل تھے جب آپ سابقہ آمر صدام حسین کے دور میں فرار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔"

ترجمان کا کہنا تھا" آپ کو عراقی عوام سے معافی مانگ کر استعفیٰ دے دینا چاہئیے ہے۔ آپ نے اس ملک کو تباہ کر دیا ہے اور جو شخص ملک کو تباہ کر دے وہ اسے بحرانوں سے نہیں بچا سکتا ہے۔

مالکی نے 15 اگست کو مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اب ان کی پارٹی الدعوہ سے ہی تعلق رکھنے والے حیدر العبادی وزارت عظمیٰ کے منصب کو سنبھال چکے ہیں۔