اسرائیلی فوج القسام کے سپریم کمانڈر کو ضرور قتل کرے گی

قسامی کمانڈر الضیف کی اہلیہ اور بیٹی کو شہید کرنے کا اسرائیلی جواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت نے مصر کی ثالثی کے تحت غزہ کی پٹی میں جاری جنگ بندی کی بات چیت ہی سبوتاژ نہیں کر دی ہے بلکہ ایک فضائی حملے میں‌ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمد الضیف کو اہل خانہ سمیت ختم کرنے کو "آئینی اور قانونی ہدف" قرار دیا ہے۔ یہ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کمانڈر ابو خالد محمد الضیف کے گھر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں اس کی اہلیہ اور ایک بیٹی شہید ہو گئی ہیں۔

خبر رساں ‌ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق اسرائیلی وزیر داخلہ جدعون ساعر نے فوجی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے القسام کمانڈر پر قاتلانہ حملے کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ دھمکی دی کہ فوج کو جب بھی موقع ملے گا وہ الضیف کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل کرے گی چاہے اس کارروائی میں اس کے اہل خانہ اور بچے بھی کیوں نہ مارے جائیں۔

اسرائیلی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے کمانڈر الضیف جیسے لوگ ایسے ہی خطرناک ہیں ‌جیسے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔ جدعون ساعر کا کہنا تھا کہ وہ یہ تصدیق تو نہیں کر سکتے کیا غزہ میں الشیخ رضوان کالونی میں کمانڈر الضیف کے گھر پر ہونے والے حملے میں ‌وہ خود بھی نشانہ بنے ہیں، یا نہیں۔

ادھر حماس نے کمانڈر الضیف کی اہلیہ اور بچی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ الاقصیٰ ٹی وی پر جاری ایک بیان میں ‌حماس نے غزہ کی پٹی کے شہریوں ‌سے اپیل کی کہ وہ القسام کے سپریم کمانڈر کی شہید بیٹی اور اہلیہ کی نماز جنازہ میں ‌زیادہ سے زیادہ شرکت کریں۔ بعد ازاں شام کو کمانڈر ابو خالد محمد الضیف کی اہلیہ اور بچی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ شہید ماں بیٹی کی نماز جنازہ میں ہزاروں شہری شریک تھے۔

حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ‌ابو مرزوق نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک کے اپنے خصوصی صفحے پر محمد الضیف کی اہلیہ اور بیٹی کی شہادت کی تصدیق کی ہے اور ساتھ ہی انہوں‌ نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کو اس ناحق قتل عام کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں