شام میں امریکا کی خفیہ فوجی کارروائی کا انکشاف

مقصد گرفتار امریکیوں کو عسکریت پسندوں سے رہائی دلانا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے حالیہ مہینوں کے دوران شام میں خصوصی کارروائیوں کے لیے ایک خفیہ مشن پر روانہ کیا تھا۔ اس فوجی دستے کو بھجوانے کا مقصد شام میں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کو چھڑوانا تھا، لیکن اس مشن میں کامیابی نہ ہوسکی۔

انکشاف کے مطابق ان امریکی شہریوں میں صحافی جیمز فولے بھی شامل تھا جسے اسلامی عسکریت پسند داعش نے کچھ عرصہ قبل یرغمال بنایا تھا۔

ذرائع کے مطابق امریکی خصوصی دستوں کو حساس اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات کے بعد اختیارات دیے گئے تھے۔ حساس اداروں نے شام میں اس جگہ کی بھی نشاندہی کر دی تھی جہاں زیر حراست امریکیوں کو رکھا گیا تھا۔

کئی درجن فوجیوں کو چھاپہ ماروں کی صورت میں اتارنے کے باوجود ناکامی ہوئی اور ان دستوں کی واپسی سے پہلے داعش کے ساتھ ایک مڈبھیڑ بھی ہوئی جس میں کئی عسکریت پسند مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق امریکی دستوں کا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک فوجی معمولی زخمی ہوا تھا۔

صدر اوباما کی دہشت گردی کے حوالے سے اعلی مشیر لیزا مناکو نے اس بارے میں کہا ہے کہ ٹھوس اطلاعات ملنے پر صدر نے جارحانہ کارروائی کرکے گرفتار امریکیوں کو چھڑوانے کا اختیار دیا تھا لیکن مشن کامیاب نہ ہو سکا۔

واضح رہے امریکی خصوصی دستوں نے اس آپریشن کا فیصلہ ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے اگلے روز کیا تھا جو عسکریت پسندوں نے گرفتار امریکیوں کے حوالے سے جاری کی تھیں۔

داعش کی طرف سے خطرات کے باوجود امریکا نے عراق میں بھی داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ تاکہ امریکی صحافی فولے کی ہلاکت کے ذمہ داروں سزا دی جاسکے۔

شام میں امریکی فوجیوں کی کارروائی کا انکشاف امریکا کی طرف سے پہلی بار سامنے آیا ہے کہ امریکی فوجی شام کی سرزمین پر اترے ہیں۔

خیال رہے اس سے پہلے صدر اوباما نے تین سال سے زائد پر محیط شامی خانہ جنگی کے باوجود امریکی مداخلت سے سخت دباو کے بعد بھی گریز کیے رکھا ہے۔

قومی سلامتی کے امور کے لیے وائٹ ہاوس کے ترجمان کیتھیلین ہیڈن کے مطابق انتظامیہ کبھی اس بارے میں اطلاعات سامنے نہیں لائی ہیں۔ لیکن بدھ کے روز جب بہت سے ابلاغی اداروں نے اس بارے میں رپورٹس شائع کرنے کی تیاری کر لی تو امریکی انتظامیہ کے پاس کوئی آپشن باقی نہ رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں