یو ای اے:انسداد دہشت گردی قوانین میں سختی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے پہلے سے نافذالعمل انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے انھیں مزید سخت کردیا ہے اور ان کے تحت دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لیے کڑی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق صدر شیخ خلیفہ بن زید الناہیان نے دہشت گردی کے جرائم سے متعلق 2014ء کے وفاقی قانون سات کا نفاذ کیا ہے۔اس قانون کے تحت دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کو سزائے موت ،عمر قید اور دس کروڑ درہم (دو کروڑ ستر لاکھ ڈالرز) تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔

روزنامہ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق:''قانون کے تحت یواے ای کے صدر ،نائب صدر یا امارات کے کسی حکمران اور ان کے خاندان کے افراد پر حملے کرنے یا انھیں ڈرانے دھمکانے یا جو ریاست یا حکومت کے خلاف سازش کے مرتکب ہوں گے تو انھیں سنگین سزا دی جائے گی''۔

قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں یا ان کی منصوبہ بندی یا ان کی معاونت کرنے والے افراد یا ملک سے باہر دہشت گردی کی سرگرمیوں کی یہاں بیٹھ کر منصوبہ بندی کریں گے تو انھیں مذکورہ سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا''۔

اماراتی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے 2004ء کے مروجہ قانون میں ترمیم کی ہے اور اس میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت ،لوگوں کو یرغمال بنانا ،انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کو بھی دہشت گردی کے جرائم میں شامل کر لیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے علاقائی صورت حال کے پیش نظر انسداد دہشت گردی کے ترمیمی قانون کے تحت یہ سخت سزائیں نافذ کی ہیں۔خاص طور پرسخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کی عراق اور شام میں حالیہ کارروائیوں پر تشویش پائی جارہی ہے اور اس جنگجو تنظیم کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یواے ای نے فروری میں دہشت گرد گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور بیرون ملک لڑانے والے اپنے شہریوں کے لیے بیس سال تک قید کی سزا مقررکی تھی۔اس قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے لیے سخت پابندیوں کا بھی نفاذ کیا گیا تھا۔

جون میں یو اے ای کی ایک اعلیٰ عدالت نے چھے عربوں کو ملک میں القاعدہ کا ایک سیل تشکیل دینے اور شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کے لیے رقوم اکٹھی کرنے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سات ،سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

حالیہ مہینوں کے دوران یواے ای میں بیسیوں اماراتی اور مصری شہریوں کو اخوان المسلمون کے سیل قائم کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں قید وبند کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب اور مصر کی تقلید میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں