.

اسرائیل نے چار مزید فلسطیی شہید کر دیے

امریکا اور اتحادیوں کا غزہ میں پائیدارامن کے لیے صلاح مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری سے مزید چار فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ مصر کی رابطہ کاری کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد مسلسل تیسرے دن یعنی جمعہ کے روز بھی اسرائیل نے بمباری جاری رکھی۔

غزہ میں محکہ صحت کے ذمہ دار اشرف القدرہ نے بتایا کہ دو افراد جو کہ مویشی فارم میں کام کرتے تھے اسرائیلی بمباری سے شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ دیر البلہ میں پیش آیا ہے ۔ دونوں افراد کی عمریں بالترتیب 22 اور 24 سال تھیں۔

واضح رہے اسرائیل منگل کے روز سے دوبارہ غزہ پر بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اس نے بمباری غزہ سے کیے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں شروع کی ہے اور اس سلسلے میں 20 فضائی حملے کر چکا ہے۔

دریں اثناء امریکا، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نےاس بارے میں سلامتی کونسل میں قرارداد لائے جانے کے معاملے پر غور کیا ہے تاکہ پائیدار جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ ان ممالک نے اس حوالے سے ایک بین الاقوامی سطح کے مانیٹرنگ مشن کے مفید ہونے یا نہ ہونے پر بھی غور کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے امریکا کے اہم اتحادی اسرائیل نے بھی غزہ جنگ کے بارے میں طویل مدتی جنگ بندی کے لیے بھی مشاورت کی ہے۔

تاہم ایک امریکی سفارت کار نے واشنگٹن میں کہا ہے یہ مقابلے والی بات نہیں ہے اس لیے ہم سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ اس بارے میں بات کر رہے تاکہ جنگ ٹوٹنے سے پھر شروع ہونے والی جنگی لہر ختم ہو سکے ۔

امریکا کے ایک اور سفارتکار نے کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کی طرف سے غیر سرکاری طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سلامتی کونسل کی طرف سے لیا جانے والا ایکشن مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے اب تک اسرائیلی بمباری سے دو ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ بچوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔