.

شام: انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، عالمی خاموشی کی مذمت

ایک سال میں ہلاکتیں دوگنا، جنگی جرائم بھی جاری، اقوام متحدہ رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے شعبے کی سربراہ ناوی پیلے نے عالمی سطح پر شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جاری سکوت مرگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک خانہ جنگی کے شکار اس ملک میں ایک لاکھ اکانوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جاری شدہ رپورٹ میں اعداد و شمار جو کہ چار گروپوں اور حکومت کے حوالے سے دوہرے معائنے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ تاکہ اس رپورٹ کے ذریعے شام میں ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

اقوام متحدہ نے شام میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ کے لیے 2013 میں اس وقت کام شروع کیا تھا جب ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے آگے بڑھ رہی تھی۔ تاہم ایک سال کے دوران ان ہلاکتوں کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو گئی۔

ناوی پیلے کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے ہلاکتوں کی تعداد میں اب تک سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حقائق کو پوری طرح کور نہیں کر سکی لیکن پھر بھی ہلاکتوں میں ایک سال کے دوران دوگنا اضافہ کا اظہار ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 51953 ہلاکتوں کا اس رپورٹ میں ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے ہلاکتوں کی تعداد دیہاتی علاقوں میں زیادہ ہے۔ ان میں دمشق میں 39393 ، حلب میں 31932 ،حمص میں 28186 ،ادلب میں 20040 ،دراء میں18539 اور ہاما میں 14890 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ناوی پیلے نے جنگی جرائم کا شام میں ارتکاب ہونے کے حوالے سے اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے ایسے جرائم تمام اطراف سے کیے گئے ہیں۔