.

عراقی فوج اور کردوں کی دو قصبوں کیلیے پیش قدمی

امریکا کی داعش پر بمباری سے کرد آگے بڑھنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومتی افواج اور کرد پیشمرگ جنگ جووں نے جمعہ کے روز دو قصبوں پر قبضے کی دوبارہ کوشش کی ہے۔ یہ کوشش شمالی عراق میں داعش کے زیر قبضہ قصبوں جلاولہ اور سعد یہ کے حوالے سے کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق کرد جنگ جووں کی واپسی امریکی فضائیہ کی داعش پر بمباری کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ اس وجہ سے مشرقی جانب سے کرد بغداد کے شمال مشرق میں 115 کلومیٹر جلاولہ میں پہنچ سکے ہیں۔ اس علاقے میں کئی ہفتوں تک تصادم کی صورت حال رہی ہے۔

عراقی فوج کو عراقی فضائیہ کی بھی مدد حاصل ہے۔ اس لیے عراقی فوج قریبی قصبے سعدیہ کی طرف بڑھ سکی ہے۔ واضح رہے یہ دونوں قصبے ایرانی سرحد کے قریب کرد علاقے میں ہیں۔

کرد جنگجووں نے جلاولہ کے لیے کئی اطراف سے پیش قدمی کی ہے۔ پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ کئی پوزیشنوں پر پہلے ہی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ کرد حکام نے کہا ہے کہ اب تک ان کے 9 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کرد جنگجووں کی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

جمعہ کے روز عراق کے اعلی شیعہ عالم آیت اللہ علی السیستانی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایک موزوں حکومت کے لیے بغداد میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

السیستانی نے کربلا میں خطبہ جمعہ کے دوران 18000 شیعہ لوگوں پر داعش کی وجہ سے گذرنے والی مصیبت پر بحی افسوس کا اظہار کیا ہے۔