.

ایرانی وزیرخارجہ کا عراق کے ساتھ اظہارِ یک جہتی

داعش کے خاتمے کے لیے عالمی کوششیں ناگزیر ہیں:حیدرالعبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نامزد وزیر وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ سخت گیر گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔

انھوں نے یہ بات بغداد میں ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ اتوار کو ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔جواد ظریف نے ایران کی جانب سے عراق کو اس کی علاقائی سالمیت اور جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

عراق کے نامزد وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''حیدر العبادی نے داعش جیسے دہشت گرد گینگ کی موجودگی میں خطے کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی ہے اور اس دہشت گرد تنظیم کے خاتمے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے''۔

بعد میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے اپنے عراقی ہم منصب ہوشیار زیباری کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا ہے:''ہمیں عراق میں جاری جمہوری عمل کے بارے میں خوشی ہے کہ اس کے ذریعے وزیراعظم حیدر العبادی کا قومی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخاب کیا گیا ہے جس میں عراق کے تمام فرقوں کے نمائندے شامل ہوں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اسلامی جمہوریہ ایران عراق کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اس ملک کے اتحاد ،استحکام اور سکیورٹی کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیتا ہے''۔

جواد ظریف سے جب صحافیوں نے ایرانی فوجیوں کے عراقی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑنے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ''عراق میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی کی اطلاع درست نہیں ہے۔عراقی سرزمین پر ایک بھی ایرانی فوجی موجود نہیں ہے کیونکہ عراق کو ان فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے''۔

واضح رہے حال ہی میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایرانی فوجی عراقی فورسز کے ساتھ مل کر شام کے شمالی شہر تکریت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے 10 جون کے بعد سے عراق کے بیشتر شمالی اور شمال مغربی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنا نظام حکومت قائم کررکھا ہے۔

انھوں نے عراقی فوج سے امریکی ساختہ حموی فوجی گاڑیاں اور دوسرے سازوسامان پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔عراقی فوج اپنے طور پر داعش کا مقابلہ نہیں کرسکی تھی اور اس نے داعش کے جنگجوؤں کی کوئی خاص مزاحمت بھی نہیں کی تھی۔البتہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران امریکی فضائیہ نے شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے بعد وہ ملک کے سب سے بڑے ڈیم اور بعض دوسرے علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔موصل ڈیم پر کرد فورسز البیش المرکہ نے دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

داعش گذشتہ تین سال سے پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسر جنگ ہے اور اس نے شام کے شمالی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنا نظام حکومت قائم کررکھا ہے لیکن خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں داعش کی اعتدال پسند باغی جنگجو گروہوں اورالقاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے ساتھ بھی لڑائی ہورہی ہے۔شام میں ایران اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیا حزب اللہ صدر بشارالاسد کی داعش کے خلاف جنگ میں مدد کررہے ہیں۔