عراقی اہل سنت سے سیاسی عمل کے بائیکاٹ کا مطالبہ

"شیعہ شدت پسندوں کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شہر دیالا میں جمعہ کے روز اہل سُنت مسلک کی ایک جامع مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں 70 نمازیوں کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں سخت غم و غصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔ دیالا کی قبائلی کونسل کے سربراہ الشیخ علی الحاتم نے اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہ نمائوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دیالا مسجد میں قتل عام میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے تک ملک میں جاری سیاسی عمل کا مکمل بائیکاٹ کر دیں۔

سرکردہ قبائلی رہ نما الشیخ علی الحاتم نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیالا میں ایک جامع مسجد میں نہتے نمازیوں کے قتل عام کے بعد اہل سنت کا کسی سیاسی عمل میں شرکت کاکوئی جواز باقی نہیں بچا ہے۔ اب بات مذمتی بیانات سے آگے نکل چکی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اہل سنت مسلک کے تمام سیاسی رہ نما موجودہ حکومت سے تعاون سے انکار کرتے ہوئے مسجد میں قتل عام کی تحقیقات پر توجہ دیں۔ جب تک بے گناہ لوگوں کے قتل عام میں ملوث دہشت گردوں کا تعین کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اس وقت سیاسی عمل کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔

الشیخ علی حاتم نے الزام عائد کیا کہ دیالا میں نمازیوں پر حملہ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے تشکیل کردہ شیعہ ملیشیا کے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ اہل سنت مسلک کے لوگ شیعہ دہشت گردوں کے خلاف اعلان جہاد کریں ورنہ ہماری مساجد اور نمازی اسی طرح خون میں نہلائے جاتے رہیں گے۔

سنی قبائلی لیڈر نے سابق وزیر اعظم نوری المالکی اور ان کے تمام اعیان وانصار پر نہتے شہریوں کے قتل عام کا مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں اس وقت جو کشت وخون ہو رہا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری سابق وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے۔ نوری المالکی نے اپنی آمریت کی بقا کے لیے سیکیورٹی اداروں کی آڑ میں مسلح جتھے تشکیل دے رکھے تھے جو اہل سنت مسلک کے لوگوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں