غزہ میں مشتبہ اسرائیلی جاسوسوں کا قتل

محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی حماس پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کے مرتکب عناصر کو جس عجلت میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کا سلسلہ جاری ہے، اس نے خود تنظیم کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت میں خوف کی فضاء پیدا کر دی ہے۔

فلسطینی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کے بارے میں اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات کے تحت شہریوں کے قتل پر فلسطینی اتھارٹی نے بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے وحشیانہ قتل عام قرار دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس ایسے مرد و زن اور بچوں کو بھی جاسوسی کے الزامات میں موت سے ہم کنار کر رہی ہے جن کا جاسوسی جیسے خطرناک کام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

حماس کو صرف یہ شبہ ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے قبل جو لوگ غزہ کی جیلوں میں قید رہے ہیں وہ حماس کے خلاف دشمن کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حماس کی سیاسی قیادت غزہ کی پٹی میں تنظیم کے عسکری ونگ کے ہاتھوں شہریوں کے قتل پر خاموش ہے۔ جاسوسی کی پاداش میں شہریوں کے قتل کی مذمت، مخالفت یا حمایت نہیں کی جا رہی ہے۔

رام اللہ میں صدر محمود عباس کے پرنسپل سیکرٹری اور ایوان صدر کے سیکرٹری جنرل طیب عبدالرحیم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کے ہاتھوں شہریوں کا قتل عام ظالمانہ اقدام ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں ‌نے الزام عائد کیا کہ حماس محض شبے کی بنیاد پر شہریوں کا ماروائے عدالت قتل عام کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل حماس کے سیکیورٹی اداروں نے غزہ کی پٹی میں 18 افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کے بعد خود حماس کی اپنی نچلی صفوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔

حماس کا موقف ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے اہم رہ نمائوں کے بارے میں اسرائیلی فوج کو خفیہ معلومات فراہم کر رہے تھے۔ رفح میں حماس کے تین اہم کمانڈروں کی اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں شہادت بھی جاسوسی کا نتیجہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں