.

شام دہشت گردی مخالف جنگ میں دنیا سے تعاون کو تیار

امریکا اور برطانیہ کو داعش اور دوسرے گروہوں کے خلاف لڑائی میں تعاون کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے امریکا سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن اس کی یہ شرط عاید کی ہے کہ یہ کام انتہا پسندوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار داد کے فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے۔

انھوں نے سوموار کو دارالحکومت دمشق میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''شام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2170 پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے''۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک امریکا اور برطانیہ سے بھی اس ضمن میں تعاون پرآمادہ ہے اور انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''شام دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر اتحاد کا حصہ بننے کو تیار ہے یا اس ضمن میں دو طرفہ تعاون بھی کیا جاسکتا ہے مگر ہمیں یہ محسوس یونا چاہیے کہ یہ تعاون سنجیدہ بنیاد پر کیا جارہا ہے اور دُہرے معیارات اختیار نہیں کیے جانے چاہئیں''۔ولید المعلم کا کہنا تھا کہ شام کی علاقائی خودمختاری کو جارحانہ اقدام سمجھا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 15 اگست کو اتفاق رائے سے ایک قرار داد کی منظوری دی تھی جس میں عراق اور شام میں برسرپیکار جہادیوں کو کمزور کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرنے والوں پر پابندیاں عاید کی تھیں۔سلامتی کونسل نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے نام ممنوعہ فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

لیکن شامی حکومت منحرف فوجیوں اور شامی باغیوں پر مشتمل جیش الحر کو بھی دہشت گرد قرار دیتی ہے اور ایک عرصے سے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے تمام گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہی ہے۔واضح رہے کہ برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے اگلے روز ایک بیان میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ تعاون کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔