ایران نے کرد فورسز کو پہلے اسلحہ بھیجا:مسعود بارزانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے سخت گیر جنگجوؤں کے خلاف حالیہ لڑائی میں سب سے پہلے انھیں اسلحہ مہیا کیا تھا۔

انھوں نے یہ بات اربیل میں ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتائی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے دنیا سے اسلحہ مہیا کرنے کے لیے کہا تھا اور اسلامی جمہوریہ ایران پہلا ملک تھا جس نے ہمیں سب سے پہلے ہتھیار اور آلات بھیجے تھے۔

اس موقع پر ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کے ملک نے اپنے پڑوسیوں کو ہتھیار ہی مہیا کیے ہیں اور برسرزمین اپنے فوجی نہیں بھیجے ہیں۔ تاہم وزیرخارجہ جواد ظریف کے اس انکار کے باوجود ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں ایرانی فوجی سنی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق عراق میں ایک ایرانی پائیلٹ لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔ایران نے عراق کی مدد کے لیے روسی ساختہ سخوئی 25 لڑاکا طیارے بھی بھیجے ہیں۔

کردستان کی سکیورٹی فورسز شمالی عراق میں دولت اسلامی عراق وشام( داعش ) کے جنگجوؤں سے نبردآزما ہیں۔واضح رہے کہ شمالی شہر موصل اور دوسرے شہروں میں داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بعد عراقی فوج وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھی اور اس کے خالی کردہ بعض علاقوں میں کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا لیکن داعش کے جنگجوؤں نے انھیں وہاں سے مار بھگایا تھا۔

عراقی فوج کی طرح البیش المرکہ کے دستے بھی اپنے طور پر داعش کا مقابلہ نہیں کرسکے تھے اور انھوں نے شمالی شہروں سنجار ،تل عفر اور دوسرے علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کی کوئی خاص مزاحمت نہیں کی تھی۔البتہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران امریکی فضائیہ نے شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے بعد وہ ملک کے سب سے بڑے ڈیم اور بعض دوسرے علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں اور موصل ڈیم پر کرد فورسز نے دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور داعش کی علاقائی دارالحکومت اربیل کی جانب پیش قدمی بھی روک دی ہے جبکہ وہ اربیل سے صرف تیس منٹ کی مسافت پر رہ گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں