.

اسرائیل اور حماس میں جنگ بندی کا اعلان

مصر کی ثالثی میں طرفین میں جنگ بندی کی ڈیل طے پاگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں گذشتہ سات ہفتے سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے ڈیل طے پاگئی ہے اور مصر کے سرکاری میڈیا کے اعلان کے مطابق اس جنگ بندی پر منگل کی شام سے عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن اور خبررساں ایجنسی مینا نے جنگ بندی کی ڈیل کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر مقامی وقت کے مطابق سات بجے (گرینچ معیاری وقت 1600 جی ایم ٹی) سے عمل درآمد کا آغاز ہورہا ہے۔تاہم مصری میڈیا نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے اس اعلان کے فوری بعد مصر کی ثالثی میں جنگ بندی کو قبول کرنے کی تصدیق کی ہے جبکہ فلسطینی حکام نے قبل ازیں دن کو یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی مصر کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی ڈیل طے پاگئی ہے۔

غزہ میں حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''طرفین کے درمیان ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے اور ہم قاہرہ کی جانب سے اس کے نفاذ کے لیے اعلان کے منتظر ہیں''۔مصری میڈیا کی اطلاع کے بعد حماس نے اپنے حامیوں کو ٹیکسٹ پیغامات بھی بھیجے ہیں جن میں ان پر زوردیا ہے کہ وہ جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔

جنگ بندی کے اعلان سے چندے پیشتر جنوبی اسرائیل میں ایک مارٹر گولہ پھٹنے سے ایک اسرائیلی ہلاک اور دو شدید زخمی ہوگئے ہیں۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں تباہ کن بمباری کرکے دو بلندو بالا اپارٹمنٹ عمارتوں کو تباہ کردیا ہے۔ان عمارتوں میں بنے فلیٹوں میں متوسط اور کم آمدنی والے فلسطینی مقیم تھے۔

مصر نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ رکوانے کے لیے سوموار کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے کی سرحدی گذرگاہیں کھل سکیں گی اور وہاں امدادی اور تعمیراتی سامان بھی لے جانے کی اجازت ہوگی جبکہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے کے لیے فریقین تمام متنازعہ نکات پر ایک ماہ کے اندرغور کریں گے۔

فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں ایک ماہ کے بعد اسرائیل اور فلسطینی حکام غزہ میں بندرگاہ کی تعمیر اور اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے ہزاروں کارکنوں کی رہائی پر بات چیت کریں گے۔ان فلسطینیوں کو حالیہ مہینوں کے دوران مغربی کنارے سے گرفتار کیا گیا ہے۔