مصری سپاہی کی 41 سال بعد فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین

فوجی سنہ 1973ء کی جنگ میں لاپتا ہو گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنگ یا کسی حادثے میں مارے جانے والے فوجی سپاہیوں کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کرنا ایک روایت ہے مگر مصر میں ایک سپاہی کے جسد خاکی کو 41 سال بعد فوجی اعزاز و اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چار عشرے قبل جنگ میں مارے جان والے فوجی کی شناخت ابھی تک متنازعہ ہے تاہم مصری فوج کے ترجمان بریگیڈئر محمد سمیر کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سپاہی کا جسد خاکی ملا تھا جسے دوبارہ نہر سویز کے مقام پر فوجی اعزا و اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ نہر سویز کی کھدائی کے دوران مزدوروں کو ایک فوجی کی میت ملی جس کی شناخت محمد احمد حسن عطوہ کے نام سے کی گئی ہے۔ یہ سپاہی 18 اکتوبر 1973ء کو جنگ میں لاپتا ہو گیا تھا اور سنہ 1977ء میں اسے باضابطہ طور پر شہید قرار دے دیا گیا تھا۔

مصری ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں اکتالیس سال بعد ملنے والے جسد خاکی کے بارے میں شبہات کا بھی اظہار کیا گیا ہے تاہم فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملنے والی باقیات حسن عطوہ ہی کی ہیں۔

بریگیڈیئر سمیر کا کہنا تھا کہ آرمی میں عطوہ کا نمبر 5037334 تھا۔ اس کا شناختی کارڈ نمبر167 اور تاریخ پیدائش 20 مارچ 1945ء کی تھی۔ اس کی باضابطہ نماز جنازہ 26 اگست 2014ء کو ادا کی گئی اور اسے نہر سویز ہی کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل نہر سویز میں کام کرنے والے مزدوروں کو کھدائی کے دوران ایک انسانی ڈھانچہ ملا تھا جس کے پاس کچھ فوجی استعمال کی اشیاء بھی پائی گئی تھی۔ فوج نے میت کے ڈھانچے کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ محمد احمد عطوہ قرار دیے گئے فوجی کے بارے میں یہ تعین نہیں کیا جاسکا کہ وہ سنہ 1967ٰء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ میں لاپتا ہوا تھا یا سنہ 1973ء کی جنگ میں مارا گیا تھا۔

جسمانی ڈھانچے کے قریب سے پانی کا چھوٹا گیلن، ایک کنگھی، جوتے، کچھ نقدی اور ایک کارڈ جس پر سپاہی محمد حسن عطوہ لکھا ہوا تھا ملے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں