مرسی کے اسیر معاون کی اہلیہ کا اقوام متحدہ سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے برطرف صدر محمد مرسی کے ایک معاون کی اہلیہ نے اپنے خاوند کی رہائی کے سلسلے میں اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا ہے۔

کینیڈین شہری سارہ عطیہ بہت جلد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے اور عالمی ادارے کے تحقیقات کاروں سے ملاقات کرنے والی ہیں۔اس ملاقات میں وہ اپنے خاوند کی رہائی کا مسئلہ اٹھائیں گی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے اپریل میں سارہ کے خاوند خالد القزاز کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور مصری حکام سے ان سمیت ڈاکٹر محمد مرسی کے دوسرے معاونین اور مشیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

خالد القزاز کو 3 جولائی 2013ء کو ڈاکٹر محمد مرسی کی کی برطرفی کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔مصری سکیورٹی فورسز نے ان سمیت برطرف صدر کے آٹھ دہگر سینیر مشیروں کو گرفتار کیا تھا۔سارہ عطیہ کا کہنا ہے کہ ''3 جولائی کو مصر میں فوجی انقلاب برپا ہوا تھا اور اتفاق سے اس تاریخ کو میرے خاوند کی سالگرہ تھی۔میں اور میرے چار بچے گھر میں ان کے آنے کا انتظار کرتے رہے تھے لیکن وہ نہیں آئے تھے کیونکہ انھیں اغوا کر لیا گیا تھا''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''قزاز کو چارسو روز سے زیادہ عرصے سے قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے اور ان کے خلاف کوئی فرد الزام بھی عاید نہیں کی گئی ہے۔ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ سرکاری ملازم تھے اور فوجی انقلاب کے وقت اپنے دفتر میں موجود تھے۔

سارہ عطیہ نے مصری روزنامے الاہرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''قید کے دوران ان کے خاوند کا اعصابی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے بائیں بازو نے حرکت کرنا چھوڑ دی ہے اور اسپتال میں خراب صورت حال کی وجہ سے ان کی صحت روز بروز بگڑتی جارہی ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ انھیں اسپتال کی جانب سے خاوند کی ایم آر آئی رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے جس میں گردن میں ان کے اعصابی نظام کے بری طرح متاثر ہونے کا پتا چلا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان کی فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے اور اگر گردن کی سرجری نہیں کی جاتی ہے نہیں تو وہ مستقل طور پر معذور بھی ہوسکتے ہیں۔

خاتون سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا ان کے خاوند کی خراب صحت ان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کا نتیجہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ''میں اپنے خاوند پر کسی جسمانی تشدد کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں۔سوائے اس کے کہ انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق قید تنہائی بہ ذات خود ایک تشدد ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مصری حکام سے خالدالقزاز کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دوسری صورت میں ان کے خلاف فرد الزام عاید کی جائے اور ان کا منصفانہ ٹرائل کیا جائے۔ایمنسٹی نے قزاز کے بوڑھے والد کی گرفتاری کی بھی مذمت کی تھی۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں محض ان کے بیٹے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔قزاز کے والد کو جون میں آٹھ ماہ کی حراست کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔دوران حراست انھیں دومرتبہ دل کا دورہ پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں