.

شام میں موجود جنگجو کی برطانیہ واپسی کی دھمکی

اندازے کے مطابق 500 کے قریب برطانوی جنگجو شام اور عراق میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے والے ایک برطانوی جنگجو نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے ان پر حملے کرنا نہ چھوڑے تو وہ اپنے گھروں کو واپس آ جائیں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے وڈیو لنک کے ذریعے دو نقاب پوش جنگجوئوں سے نامعلوم مقام سے انٹرویو لیا۔ ان نقاب پوش افراد کے نام ابو انور البرطانی اور ابوبکر بتائے گئے ہیں۔ البرطانی کے بقول اگر ان کو جیمز فولی کے قتل جیسا عمل کرنے کا موقعہ ملے گا تو یہ ان کے لئے اعزاز کی بات ہو گی۔

"مجھے امید ہے کہ خدا مجھے ایسا موقع دے کہ میں ویسا کروں جیسا کہ بھائی نے جیمز فولی کے ساتھ کیا۔ چاہے مرنے والا جیمز فولی جیسا ہو یا بشار الاسد کا فوجی یا امریکا کا فوجی ہو۔ میرے ہاتھ ایسا عمل کرنے کو تیار ہیں۔"

امریکی صحافی جیمز فولی کو پچھلے ہفتے قتل کر دیا گیا تھا۔ انہیں اس سے پہلے دو سال کے لئے قید میں رکھا گیا تھا۔ ابوبکر نے 'سی این این' کی انٹرویو کار عاتکہ شوبرٹ کو کہا "اگر تمھارے ممالک نے ہم پر حملے کرنا نہ روکے تو ہم برطانیہ واپس آ جائیں گے۔"

'سی این این' کے مطابق شام اور عراق میں داعش جیسی انتہاپسند تنظیموں کے ساتھ مل کر لڑںے والے برطانوی شہریوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 500 ہے۔

برطانیہ کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس اور خفیہ اداروں کے ساتھ تعاون کرکے ان شدت پسندوں کو تلاش کرنے میں مدد کریں گے۔

برطانیہ کی رمضان فاٶنڈیشن کے سربراہ محمد شفیق نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پولیس اور خفیہ اداروں کی مدد کریں گے تاکہ برطانیہ میں مقیم انتہا پسندوں اور داعش کے لئے لڑ کر واپس آنے والے جنگجوئوں کی نشاندہی کریں گے۔

انٹرویو کے آخر میں البرطانی نے برطانیہ کی مسلم کونسل کی جانب سے داعش کی تنقید پر بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ مسلم کونسل نے حال ہی میں داعش کی جانب سے اقلیتیوں، شہریوں یا دیگر مسلمانوں پر نفسیاتی تشدد کی مذمت کی تھی۔

البرطانی نے کہا کہ"برطانیہ کی مسلم کونسل مرتد ہوگئے ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں، انہوں نے ہمیشہ اسلام کے خلاف برطانوی حکومت کی مدد کی ہے۔