.

داعش نے آرٹ، تاریخ، موسیقی نصاب تعلیم سے خارج کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میدان جنگ میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں میں شہرت پانے والی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام [داعش] نے شام کے شہر الرقہ میں حکومت کے قیام کے بعد اپنا مخصوص نظام و نصاب تعلیم بھی رائج کرنا شروع کر دیا ہے۔

الرقہ شہر میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کے آغاز سے قبل "داعش" کی جانب سے اسکولوں کی انتظامیہ اور معلمین کو ایک خصوصی تربیتی عمل سے گذارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیز نصاب تعلیم سے فنون لطیفہ اور تاریخ جیسے اہم مضامین کو بھی نکال دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "داعش" نے امتیازی نظام و نصاب تعلیم کے حوالے سے ہفت روز ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے جس میں الرقہ شہرکے تمام اسکولوں کی منتظمین اورمعلمین کو بلایا گیا ہے۔ ورکشاپ میں شرکت نہ کرنے والوں کو تدریسی فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ داعش نے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام اپنے مخصوص فکر و فلسفے کو تعلیم کے میدان میں نافذ کرنے غرض سے کیا ہے۔ اسکولوں کی انتظامیہ اور مدرسین سے کہا گہا ہے کہ وہ تعلیمی سرگرمیاں‌ شروع کرنے سے قبل اسلامی تعلیم سے متعلق اسلامی شریعت کے اصول سیکھ لیں۔

بیان کے مطابق الرقہ میں مروجہ نظام تعلیم اور نصاب کی جگہ داعش نے اپنی مرضی کا نصاب تیار کیا ہے۔ اس نصاب میں موسیقی، آرٹ، سوشل سائنسز، تاریخ، سپورٹس، فلسفہ،نفسیات، دینیات اور مسیحی مذہبی تعلیم سے متعلق کتب کو نکال دیا گیا ہے۔

نصابی کتب میں موجود شام کا پورا نام عرب جمہوریہ شام تبدیل کر کے اسے اسلامی ریاست شام کر دیا گیا ہے۔ نصاب میں شامل غیر اسلامی نوعیت کی تصاویر بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ کتابوں میں شام کا قومی ترانہ خذف کر دیا گیا ہے۔ 'نیشنلزم' اور 'قومیت' کی اصطلاحات استعمال کرنے پر پابندی ہے اس کی جگہ صرف اسلام اور اسلامی ریاست کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہیں۔ وطن اور ملک کو "اسلامی ریاست شام" میں تبدیل کیا گیا ہے۔

سائنسی کتب میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تعلیم، معاشیات میں سود، جمہوریت، انتخابات اور تخلیق کائنات کے مغربی نظریات ختم کرکے "اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کاریگری" کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے۔ داعش کے شعبہ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفت روزہ تربیتی کلاس مرد اور خواتین کی الگ الگ ہو رہی ہے، جس میں انہیں تعلیم سے متعلق اسلام کے اصول و مبادی سکھائے جا رہے ہیں۔