.

عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر نئی امریکی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق میں موجود شدت پسند تنظیم دولت اسلامی کے دو اہم مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایک حملہ شمالی عراق کے شورش زدہ قصبے آمرلی میں کیا گیا جب کہ دوسرا موصل ڈیم کے قریب شدت پسند جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع پینٹاگون کی جانب سے جاری ایک بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے آٹھ اگست کے بعد عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر اب تک 120 فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں کے ساتھ عراقی فورسز اور صوبہ کردستان کی البشمرکہ فوج نے بھی داعش کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں نہ صرف داعش کے جنگجوئوں کی پیش قدمی رُک گئی ہے بلکہ فورسز کے کئی علاقے بھی داعش سے خالی کرا لیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد اور کرکوک کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع سلیمان بیک کے مقام پر عراقی فورسز اور داعش کے درمیان گھمسان کی جنگ کی اطلاعات ہیں تاہم تازہ کارروائی میں کسی فریق کی پیش قدمی کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ سلیمان بیک پر داعش کے جنگجوئوں‌ نے دو ماہ قبل قبضہ کر لیا تھا۔

عراقی اور کرد فورسز کے ساتھ امریکی فضائی حملوں کے جلو میں سلیمان بیک کے آس پاس جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ سلیمان بیک سے کچھ ہی فاصلے پر واقع آمرلی قصبے کے بیشتر حصے کو داعشی جنگجوئوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے۔ داعش کے عناصر آمرلی سے نکل کر مغرب کی جانب صحراء حمرین کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔

عراقی، کرد اور امریکی فوج کے مشترکہ آپریشن میں موصل ڈیم کی داعش سے بازیابی کے بعد شہر سے 15 کلومیٹر دور نینویٰ کے پہاڑوں میں بھی خون ریز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔