.

گولان کی پہاڑیاں، شامی فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی

ٹینکوں اور مارٹر گولوں کا بھی استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان گولان کی پہاڑیوں پر پیر کے روز شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ تاہم فی الحال یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک نے گولان کی سرحدی راہداری کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے یا نہیں۔

القاعدہ سے منسلک عسکری گروپ النصرہ فرنٹ شامی فوج کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ ان دنوں گولان کی سرحدی راہداری کے لیے کوشاں ہے۔ واضح رہے قونیترا نامی گولان کی اس راہداری کا انتظامی کنٹرول اقوام متحدہ کے پاس ہے۔ اس راہداری کے دوسری جانب اسرائیل ہے۔

پیر کے روز شروع ہونے والی اس لڑائی کے دوران مارٹر گولوں اور دوسرے اسلحہ بارود کے استعمال کی گھن گرج اسرائیل میں سنی گئی۔ اس موقع پر شامی فوج نے ٹینک کا ستعمال بھی کیا ہے۔

واضح رہے صرف ایک روز قبل اسرائیل شامی ڈرون مار گرانے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے اس جنگ کی لپیٹ میں آئے علاقے میں ڈرون کس نے اڑایا تھا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا ہے '' ڈرون کو سرحدی علاقے میں پیٹریاٹ میزائل سے قونیترا کے قریب نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسی علاقے میں جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کو اسلام پسند جنگ جووں نے حراست میں لے لیا تھا۔ گولان کی یہ پہاڑیاں 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہیں.