فرانسییسی خاتون کی بچھڑنے والی دوسالہ بیٹی سے ملاقات

انتہا پسند شام میں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ترکی لے گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پچیس سالہ فرانسیسی خاتون مریم رحیم کی اپنی بچھڑنے والی کمسن بچی سے ملاقات ممکن ہو گئی ہے۔ مریم رحیم نے الزام لگایا تھا کہ اس کی ننھی بیٹی کو اس کے والد نے غیر قانونی طور پر شام میں منتقل کر دیا ہے۔

اس خاتون نے ماہ مارچ کے دوران فرانس کے اعلی حکام سے اپیل کی تھی کی اس کی دو سالہ ننھی منی بچی کو بازیاب کرانے میں مدد کی جائے۔

خاتون نے کہا تھا کہ بیٹی کو غیر قانونی طور پر شام لے جانے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا شوہر ہے جس سے وہ اب طلاق لے رہی ہے۔ تاہم فرانس کے وزیر داخلہ سے متعلق ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متاثرہ ماں کی اپنی جدا کر دی جانے والی بیٹی سے ملاقات ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مریم کے شوہر کو گذشتہ ہفتے دوسالہ بیٹی آسیہ سمیت ترکی سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جہاں وہ ابھی تک زیر حراست ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔

بعد ازاں ترکی سے حراست میں لیے گئے باپ بیٹی کو فرانس کی وزارت داخلہ نے ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے فرانس منتقل کرنے کا اہتمام کیا ۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص نے فرانس سے بائی روڈ ترکی تک کا سفر کیا تھا ، جہاں سے سے وہ باقاعدگی سے اپنی اہلیہ مریم کو ترکی پہنچے کے لیے کہتا رہا۔

حراست میں لیے گئے اس شخص کے مطابق اس نے ترکی اور شام کی مشترکہ سرحد عبور کر کے شام جانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، تاکہ القاعدہ سے منسلک گروپ النصرہ فرنٹ میں شامل ہو سکے۔

مریم رحیم کے وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی موکلہ کا شوہر مکہ کے حالیہ سفر کے بعد انتہا پسندی کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ مکہ سے واپسی کے بعد اس نے اپنی اہلیہ کو دوپٹہ لینے اور اپنی بیٹی کو موسیقی سے دور رکھنے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا۔

واضح رہے فرانس اپنے شہریوں کے شامی انتہا پسندوں کا حصہ بننے پر پہلے ہی تشویش کا شکار ہے کہ ایسے لوگ واپسی پر فرانس کی اندرونی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک آٹھ سو فرانسیسی شہری شام میں عسکریت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان انتہا پسندوں میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں