.

داعش کی شکست پر ایرانی جنرل کا عراق میں رقص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عراق میں فوجی مداخلت نہ کرنے کے دعوئوں کے برعکس پاسداران انقلاب کے بیرون ملک کارروائیوں کے نگران ایلیٹ القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو کئی بار شیعہ عراقی جنگجوئوں کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال یو ٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک نئی فوٹیج ہے جس میں القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو عراقیوں کے ہمراہ رقص کرتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبینہ طور پر یہ ویڈیو فوٹیج چند روز قبل دولت اسلامی عراق و شام "داعش" کے جنگجوئوں سے آزاد کرائے گئے شمالی عراق کے آمرلی قصبے میں تیار کی گئی ہے جہاں عراقی فورسز، کرد فوج اور امریکی فضائیہ کے مشترکہ آپریشن میں داعش کو شکست دینے کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔

فوٹیج میں جنرل قاسم سلیمانی کو شیعہ عسکریت پسندوں کے ہمراہ ایک کھلے میدان میں بندوقیں اٹھائے رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں غالبا وہ شیعہ اکثریتی علاقے آمرلی سے داعش کی شکست کا جشن منا رہے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آمرلی قصبے اور اس سے متصل سلیمان بک کے علاقے کا محاصرہ توڑنے کے لیے نہ صرف امریکی فضائیہ کی مدد حاصل ہے بلکہ ایرانی فوجی بھی اس میں ہرممکن تعاون کر رہے ہیں۔ اس کی تصدیق جنرل قاسم سلیمانی کی موجودگی سے بھی ہوتی ہے۔ تاہم ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عراق میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کر رہی ہے اور نہ ہی کسی گروپ کو اسلحہ فراہم کرتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق پر امریکی قبضے کے خلاف آمرلی قصبے کے شیعہ گروپ بھی امریکی فوج کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں۔ داعش کے دو ماہ کے محاصرے کے خاتمے کے بعد آمرلی کے شیعہ جنگجوئوں نے اپنی فتح کے نغمے گانے شروع کر رکھے ہیں۔ وہ تمسخر اور استہزاء کے انداز میں داعش کا تذکرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکیوں کو آمرلی میں نہیں ٹھہرنے دیا۔ داعش ان کے مقابلے میں کیا چیز ہے۔

رپورٹ کے مطابق آمرلی میں داعش کے خلاف سرگرم شیعہ عناصر میں "تنظیم بدر"،"عصائب اہل حق"،"حزب اللہ بریگیڈ" اور مقتدیٰ ‌الصدر کے پیروکاروں کے مسلح کارکن پیش پیش رہے ہیں۔ الصدر کے حامیوں کو ایران کی جانب سے براہ راست معاونت حاصل رہی ہے۔