.

لیبیا: خانہ جنگی کے چار ماہ 250000 کی نقل مکانی

ایک لاکھ شہریوں کو بیرون ملک منتقل ہونا پڑا: یو این رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں چار ماہ کی حالیہ جنگی لہر کے دوران اڑھائی لاکھ شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ اس امر کا اظہار اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان نقل مکانی کرنے والوں میں ایک لاکھ شہریوں کو دوسرے ممالک جانا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ لیبیا میں یو این سپورٹ مشن اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس نے تیار کی ہے۔ انسانی حقوق آفس کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب لوگ بشمول تارکین وطن لیبیا چھوڑ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لیبیا میں خوف کا ماحول ہے اس وجہ سے عام شہری عسکری ملیشیاوں کے پر تشدد انداز کے بارے میں کچھ کہنے سے گریزاں رہتے ہیں۔

پچھلے چار ماہ میں اسلامی عسکریت پسند نے مشرقی شہر بن غازی، میں لڑائی شروع کر رکھی ہے۔ بن غازی شہر نے 2011ء میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب اسلام پسندوں نے دارالحکومت کو بھی عملا قبضے میں لے لیا ہے۔

صدر معمر قذافی کی حکومت کو نیٹو کی حمایت سے باغیوں کی طرف سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد سے بغاوت کا ماحول جاری ہے۔ پولیس اور فوج انتشار کا شکار ہے۔ ملک میں دو متوازی پارلیمان کام کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی پیش کردہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کرنے والے گروپوں نے اپنی مخالف ملیشیاوں کے ارکان کو اغوا کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چار ماہ ان بے گھر ہونے والوں میں تویرغا کمیونٹی بھی شامل ہے۔ اس سیاہ فام کمیونٹی پر الزام ہے کہ اس نے ساحلی شہر ٘ مسراتا میں معمر قذافی کا ساتھ دیا تھا۔ اس وقت بھی مسراتا ملیشیا اسلامی عسکریت پسندوں کی مضبوط ترین ملیشیا ہے۔