.

حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے سینیر رہ نما اسماعیل ہنئیہ نے اسرائیل کا اپنی جماعت اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

اسماعیل ہنئیہ نے غزہ شہر میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی فیصلے یا جنگ بندی کے معاہدے کو تسلیم نہیں کرسکتے ہیں''۔ان کا اشارہ حماس اور دوسرے فلسطینی گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کی جانب تھا۔

اسرائیل غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں حماس کے ساتھ بالواسطہ بات چیت سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔غزہ میں 26 اگست سے اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی جاری ہے۔اس سے پہلے اسرائیل کی پچاس روزہ جارحیت کے دوران دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

حماس اسرائیل کے ساتھ مستقل جنگ بندی سے قبل غزہ کا ہوائی اڈا اور بندرگاہ کو کھولنے اور محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کررہی ہے۔اسرائیل ایک طویل عرصے سے غزہ کی پٹی میں سیمنٹ ،سریا ، پائپ اور دوسرا تعمیراتی سامان لانے کی مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اس سامان کو راکٹ بنانے اور مصر کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں زیر زمین سرنگوں اور بنکروں کی تعمیر میں استعمال کرسکتے ہیں۔