.

داعش نے ایک اور یرغمال لبنانی فوجی قتل کر دیا

زندہ بچ جانے والوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام "داعش" نے تیس سے زائد یرغمال بنائے گئے لبنانی فوجیوں میں سے مزید ایک اور فوجی کو قتل کر دیا ہے اور مزید فوجیوں کے قتل کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کی جانب سے "ٹیوٹر" پر مغوی لبنانی فوجی عباس مدلج کی خون میں لت پت لاش دکھائی گئی اور ساتھ ہی یہ دعویٰ‌ کیا گیا ہے کہ مدلج کو قتل کر دیا گیا ہے۔ داعش کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس مدلج کو فرار کی کوشش میں قتل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ داعشی جنگجوؤں نے ایک ماہ قبل جنوبی لبنان کے عرسال قصبے میں گھس تیس سے زیادہ لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنالیا تھا۔ داعش کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی حکومت سے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے بدلے میں یرغمالیوں کو چھوڑے گی۔ اگر ان کے ساتھ رہا نہیں کیے جاتے تو لبنانی فوجیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔

ٹیوٹر پر عباس مدلج کے قتل کے خبر سامنے آتے ہی بیروت میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج میں بھی شدت آ گئی۔ مظاہرین جن میں اغوا ہونے والوں کے اہل خانہ اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیر حراست شدت پسندوں کو رہا کر کے یرغمالی فوجیوں کو بازیاب کرائے۔

ادھر لبنانی فوج نے سوشل میڈیا پر آنے والی عباس مدلج کے قتل کی ویڈیو کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ویڈیو اور تصویر میں داعش کے ایک نقاب پوش جنگجو کو عباس مدلج کو ذبح کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔ لبنانی فوج کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر "اے ایف پی" کو بتایا کہ انہیں عباس مدلج کےقتل کی ایک تصویر موصول ہوئی ہے لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔

اگست میں اسی علاقے میں شام میں القاعدہ کی سرگرم تنظیم النصرہ فرنٹ نے بھی کاررروائی کر کے نو لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

داعش نے یرغمال بنائے گئے ایک لبنانی فوجی کو ایک ہفتہ پیشتر قتل کر دیا تھا۔ داعش کے بیان کے تین روز بعد لبنانی فوج نے بھی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی تھی۔