.

فلسطین میں متوازی حکومتیں نہیں چل سکتیں: محمود عباس

حماس کی پالیسیوں سے قومی حکومت میں شراکت ختم ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے درمیان سیاسی معاملات میں گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد صدر عباس نے خبردار کیا ہے کہ حماس نے اگر اپنا قبلہ درست نہ کیا قومی حکومت میں سیاسی شراکت داری ختم ہو سکتی ہے۔

فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی انتظامیہ اپنی پالیسیاں تبدیل کرے۔ ہم حالات کو جوں کا توں نہیں رہنے دیں‌ گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی انتظامیہ کی جانب سے غیر ضروری سیاسی معاملات میں مداخلت جاری رہی تو قومی حکومت میں شراکت ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں 27 رکنی قومی حکومت کی کابینہ ابھی تک عملی طور پر کچھ نہیں کر سکی ہے۔

قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فلسطین میں متوازی حکومتوں اور انتظامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم صرف ایک نظام حکومت اور ایک ہی اتھارٹی چاہتے ہیں۔ حماس کے ساتھ کشیدگی برقرار رہی تو قومی حکومت ختم ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ابو مازن کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیادت غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ جنگ زدہ شہریوں کی فوری امداد ہماری اولین کوشش ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا وہ آج سوموار کو قاہرہ میں عرب وزراء خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے اور فلسطین کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل سے مذاکرات سے متعلق ایک مفصل رپورٹ عرب لیگ کے سامنے پیش کی جائے گی۔