.

حماس ملازمین کو واجبات دینے پربائیکاٹ کی دھمکی

رامی حمداللہ کی سربراہی میں فلسطینی حکومت مالی بحران سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی برادری نے فلسطینی قیادت کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے سابق ملازمین کو تن خواہیں ادا کیں تو اس کا بائیکاٹ کردیا جائے گا۔

فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ انھیں خبردار کیا گیا ہے:''اگر انھوں نے سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کے مسئلے کو حل کیے بغیر غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تو انھیں مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے''۔

رامی حمداللہ فلسطین کی قومی حکومت کے سربراہ ہیں۔ان کی سربراہی میں 2 جون سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں یہ حکومت کام کررہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تن خواہوں کی ادائی کا مسئلہ فلسطینی جماعتوں کے درمیان مصالحت کی راہ میں بھی حائل ہورہا ہے۔

حماس ،فتح اور دوسری جماعتوں کے درمیان قومی حکومت کے قیام کے لیے اپریل میں سمجھوتا طے پایا تھا۔حماس نے تب یہ مطالبہ کیا تھا کہ نئی حکومت غزہ کی پٹی میں خدمات انجام دینے والے پینتالیس ہزار ملازمین کو تن خواہیں ادا کرنے کی ذمے داری پوری کی۔ان میں ستائیس ہزار سرکاری ملازمین ہیں اور باقی حماس کے تحت سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

حماس کی حکومت جون میں اقتدار سے سبکدوش ہونے سے قبل ان ملازمین کو گذشتہ کئی ماہ سے تن خواہیں ادا نہیں کرسکی تھی کیونکہ اس کو اسرائیل کی ناکا بندی اور پابندیوں کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا تھا۔

اب وزیراعظم رامی حمداللہ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اور فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے بنکوں کو حماس کے کسی ملازم کو رقوم ادا کرنے پر خبردار کیا گیا ہے اور یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انھوں نے غزہ میں سابق حماس حکومت کے کسی ملازم کو کوئی پائی ادا کی تو ان کی حکومت اور فلسطینی عوام کا بائیکاٹ کردیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس دھمکی کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو فلسطین کے بنک کاری نظام کو ایک سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے فلسطینی مزید مسائل سے دوچار ہوجائیں گے۔

فلسطینی معیشت کا تمام تر دارومدار بین الاقوامی مالی امداد پر ہے اور اگر امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک بائیکاٹ کردیتے ہیں تو اس سے فلسطین کے مالیاتی نظام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اسی وجہ سے وہ رامی حمداللہ پر حماس کے تحت غزہ میں ملازمین کو تن خواہیں نہ دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب حماس کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ ان ملازمین کو سرکاری خزانے سے ہی تن خواہیں ادا کی جائیں اور اسی وجہ سے اس نے قومی حکومت کو غزہ میں آزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں حماس پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے ایک متوازی انتظامیہ قائم کررکھی ہے اور قومی حکومت کو غزہ میں کام کرنے سے روک رہی ہے۔

یادرہے کہ خلیجی ریاست قطر نے جون میں غزہ کی پٹی کے ملازمین کے واجبات کی ادائی کے لیے چھے کروڑ ڈالرز مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک یہ رقم فلسطینی حکومت کو منتقل نہیں کی گئی ہے۔