.

داعش اسلام دشمن صہیونی قوتوں کی آلہ کار ہے: شیخ الازھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم تنظیم دولت اسلامیہ"داعش" دین اسلام کی مُجرم اور صہیونیوں کا خدمت گذار گروپ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کے دوران شیخ الازھر نے کہا ہے کہ داعش صہیونیوں کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف استعمال کیا جانے والا ایک ہتھیار ہےجس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ جامعہ الازھر کو اہل سنت والجماعت مسلک کا دنیا میں سب سے معتبر اور نمائندہ ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ جامعہ الازھر کی جانب سے داعش کے بارے میں سخت ترین موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے دولت اسلامیہ کا اہل سنت مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے مزید کہا کہ "انتہائی دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے یہ دشمن اسلام ہی کا نام لے کر اسے پوری دنیا میں مذاق بنا رہے ہیں۔ میری نظر میں یہ لوگ کھلے دہشت گرد ہیں، جنہیں صہیونی استعماری قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے اور یہ لوگ اسلامی خلافت و اسلامی ریاست کے نام پر انسانیت کے خلاف جن جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اس کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کی نظریں اس وقت "داعش" کی سرگرمیوں اوراس کے ہاتھوں نہتے انسانوں کے قتل عام پر لگی ہوئی ہیں۔ مغرب داعش کو بھی اسلام ہی کا نمائندہ خیال کرتا ہے۔ داعش دنیا کو یہ باور کرا رہی ہے کہ اسلام قتل و غارت گری کا دین ہے جس میں شفقت اور احترام آدمیت نام کی کوئی چیز نہیں۔

اس تنظیم کی کارروائیوں سے پوری دنیا میں اسلام کی اعتدال پسندانہ ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔یہ تنظیم اسلامی خلافت کے احیاء کے لیے نہیں بلکہ ملت اسلامیہ اور عرب اقوام ما شیرازہ منتشر کرنے کے لیے صہیونی استعماری قوتوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر کام کر رہی ہے۔