.

لیبیا: مسلح ملیشیا ہتھیار ڈال دے، جنرل حفتر کا مطالبہ

دنیا بھر کے دہشت گرد بن غازی میں جمع ہیں، ترجمان جنرل حفتر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج سے الگ ہو کر قومی فوج بنانے اور اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف لڑنے والے جرنیل خلیفہ حفتر نے بن غازی میں سرگرم عسکریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر ریاستی رٹ کو تسلیم کر لیں۔ جنرل خلیفہ حفتر نے عسکریت پسندوں سے یہ مطالبہ منگل کے روز دیے گئے ایک بیان میں کیا ہے۔

جنرل حفتر کے ترجمان کرنل محمد الحجازی نے کہا '' دنیا بھر سے آنے والے دہشت گردوں، تکفیریوں اور جرائم پیشہ عناصر نے بن غازی شہر کو اپنی آماجگاہ بنا لیا ہے۔''

واضح رہے جنرل حفتر کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن عظمت کے تحت لیبیا کو دہشت گردوں سے چھڑوانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پچھلے کئی ماہ سے یہ آپریشن جاری ہے۔

ترجمان کرنل محمد الحجازی نے کہا '' مسلح ملیشیا بن غازی کا کنٹرول حاصل کرنے اور معمر قذافی کے دور سے سول اور فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ''

جنرل حفتر نے آپریشن عظمت کا آغاز اسی سال کے شروع میں کیا تھا تاکہ انتہا پسندوں سے ملک کو پاک کیا جا سکے۔

دریں اثناء ہیومن رائٹس واچ نے پیر کے روز کہا ہے کہ لیبیا میں مسلح ملشیا طرابلس ائیر پورٹ اور اس کے مضافاتی علاقوں پر قبضے کی کوشش میں ہیں ۔ اس سلسلے میں یہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کی املاک پر بھی حملے کر رہی ہے۔