.

بیت اللہ میں چوروں، جیب تراشوں سے معتمرین لٹنے لگے

پولیس کی بر وقت کارروائی میں پانچ جیب تراش رنگے ہاتھوں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عوامی مقامات پر چوروں اور جیب کتروں کا خطرہ تو رہتا ہے لیکن مسجد حرام جیسے مقدس ترین مقام میں کسی ایسے نو سرباز کے داخلے پر یقین نہیں آتا کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں کہا ہے کہ "ومن دخله كان آمناً"۔۔ اس جگہ جو بھی داخل ہوا وہ مامون ومحفوظ ہو گیا ۔۔۔ لیکن سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے، جیب تراشی کرنے اور چوری کی وارداتوں میں ملوث افراد اس مقدس مقام میں بھی داخلے سے گریز نہیں کرتے۔

حج اور عمرے کے موسموں میں ایسے دشمن اسلام بھی حجاج ومعتمرین کی صفوں میں گھس کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نظریں اللہ کے گھر میں اپنے پروردگار کی رضا اور خوشنودی نہیں بلکہ لوگوں‌کی جیبوں پر ہوتی ہے۔ وہ حجاج کے موبائل اور نقدی کی تاک میں لگے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی چرا لیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حرم شریف میں چوری چکاری اور جیب تراشی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی حکام نے بھرپور حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ حرم کی حدود میں نہ صرف جا بہ جا مانیٹرنگ کے لیے خفیہ کیمرے نصب ہیں بلکہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی ایسے عناصرپر نظر رکھنے کے لیے حجاج و معتمرین کی صفوں میں موجود رہتے ہیں۔

حرم کے سیکیورٹی ادارے کی جانب سے خفیہ کیمروں کی مدد سے تیار کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں چوروں کے طریقہ واردات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ نو سرباز حجاج کا بھیس بدل کر ان میں داخل ہوتے ہیں اور ان کی جیبوں سے ہاتھ صاف کرتے ہیں۔

مانیٹرنگ کیمروں سے ملنے والی فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاج کرام اور معتمرین عظام کی نیند اور آرام کے اوقات چوروں کے لیے اپنی وارداتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بہتر موقع ہوتے ہیں۔ وہ اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ کب کوئی حاجی یا معتمر گہری نیند میں جائے اور وہ اس کی قیمتی اشیاء لے اڑیں۔

حال ہی میں پولیس نے مانیٹرنگ کیمروں کی مدد سے چوری اور جیب تراشی میں ملوث کئی غیر ملکی گرفتار کیے ہیں۔ ان میں کم عمر، نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد بھی شامل ہیں۔ ان تمام کا مشترکہ طریقہ واردات حجاج اور معتمرین کی نیند کا انتظار کرنا تھا۔ سادہ کپڑوں میں ‌ملبوس سیکیورٹی اہلکار بھی ان کی سرگرمیوں کو دیکھتے رہے۔

فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جیب تراشی اور چور زیادہ ھجوم کے اوقات اور مقامات کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ حجر اسود کو بوسہ دینے، کسی کی فوتگی کے وقت جنازوں میں شریک لوگ اور زمزم پینے کے دوران چونکہ رش زیادہ ہوتا ہے اس لیے جیب تراش ایسے مواقع اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مانیٹرنگ کیمروں اور سیکیورٹی اداورں کی پیشہ وارانہ کارکردگی کے بعد اب ایسے واقعات کم ہو گئے ہیں تاہم اس کے باوجود حجاج اور معتمرین کو خود بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔