داعش؟ عراقی فوج از سر نو منظم کی جائے گی: کیری

فوج کی تربیت کے لیے مختلف حکمت عملیوں پرعمل درآمد کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی نئی حکمت عملی کے تحت عراقی فوج کی تشکیل نو کی جائے گی اور داعش کو شکست سے دوچار کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو بغداد میں عراق کے نئے وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''عراقی فوج کو از سرنو منظم کیا جائے گا،اس کی تربیت کی جائے گی اور اس کو موثر بنانے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔اس عمل میں نہ صرف امریکا بلکہ دوسرے ممالک بھی حصہ لیں گے''۔

جان کیری نے کہا کہ نہ تو امریکا اور نہ ہی دوسرے ممالک دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے عفریت کو خاموش تماشائی بنے پھیلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔داعش کے خلاف جنگ کو عراقی عوام کو ضرور جیتنا ہوگا لیکن اس کو باقی دنیا کو بھی جیتنے کی ضرورت ہے۔امریکا اور باقی دنیا کو اس جنگ میں مدد دینی چاہیے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر اوباما آج رات داعش سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع تر حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں۔وہ اس کے ہر پہلو کو واضح کریں گے۔تاہم انھوں نے صدر اوباما کے اس منصوبے کے خدوخال بیان نہیں کیے ہیں۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے اس منصوبے میں کم سے کم چالیس ممالک شامل ہوں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری غیرعلانیہ دورے پر بدھ کو بغداد پہنچے تھے۔انھوں نے عراق کے نئے وزیراعظم ڈاکٹر حیدرالعبادی سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی اور نئی کابینہ سے متعلق امور پر بات چیت کی ہے۔ان کی اس ملاقات سے چندے قبل دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے بغداد الجدید میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جان کیری سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر حیدر العبادی نے کہا کہ ''ہمارا کردار اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے لیکن عالمی برادری بھی عراق اور پورے خطے کے دفاع کی ذمے دار ہے''۔انھوں نے کہا کہ شام میں جو کچھ ہورہا ہے،اس کے عراق میں بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں مگر ہم اس سرحد کو عبور نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی سرحد ہے''۔

امریکی وزیرخارجہ نے اپنے مختصر دورے میں عراقی صدر فواد معصوم ،پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری اور وزیرخارجہ ابراہیم الجعفری سے بھی ملاقات کی ہے۔سلیم الجبوری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور وہ دہشت گردوں کو شکست دو چار کرے گا۔

صدر براک اوباما عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی بیخ کنی کے لیے ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد کے قیام کا اعلان کرنے والے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ داعش کو شکست دی جائے گی اور اس کے جنگجوؤں کا القاعدہ کے ارکان کی طرح پیچھا کیا جائے گا۔ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول 'داعش کو شکست دینے کے لیے تشکیل پانے والے اس نئے عالمی اتحاد میں عراق کا کردار اہم ہوگا''۔

امریکی صدر داعش کے خلاف کسی فوجی مہم سے قبل عراق میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے منتظر تھے۔عراقی پارلیمان نے دوروز قبل ہی وزیراعظم حیدر العبادی کی چھبیس رکنی نئی کابینہ کی منظوری دی ہے لیکن اس نئی کابینہ میں بھی ایک تہائی پرانے چہرے شامل ہیں اور بغداد حکومت سے ناراض اہل سنت کو زیادہ نمائندگی نہیں دی گئی ہے جبکہ ابھی اہم وزارتوں پر تقرر بھی نہیں کیا گیا ہے۔

امریکا نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے کیے تھے اور انھیں خود مختار کردستان کی جانب پیش قدمی سے روک دیا تھا۔اب صدر اوباما داعش کے خلاف فضائی حملے بڑھانے کی منظوری دینے والے ہیں۔امریکا داعش کے مقابلے میں عراقی فوج کے علاوہ شیعہ ملیشیاؤں کو بھی اسلحہ مہیا کررہا ہے اور اب اسلحے کی ترسیل میں اضافہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں