شام میں 'داعش' کے خلاف کارروائی، امریکی منصوبہ بندی

اپوزیشن شامی فوج سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کی عراق میں سرکوبی کے ساتھ ساتھ شام میں بھی تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے امریکا نے تیاری کر لی ہے۔

واشنگٹن کے ایک سیکیورٹی ذریعے اور شامی اپوزیشن کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پینٹاگون شام میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے تیار ہے۔ فوج کو صرف صدر باراک اوباما کے حکم کا انتظار ہے۔ صدر کا حکم ملتے ہی امریکی فوج شام میں بھی داعش کے خلاف فضائی آپریشن کا آغاز کر دے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے شام میں داعش کے خلاف کارروائی کے لیے تین ممکنہ آپشنز سامنے رکھے ہیں۔

اول یہ کہ عراق کی سرحد سے متصل شامی علاقوں میں فضائی حملوں میں داعش کی مرکزی قیادت بالخصوص غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے والے عناصر کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کرنا۔ حسب ضرورت محدود پیمانے پر زمینی کارروائی بھی اس آپشن کا حصہ ہے۔ امریکی ماہرین دفاع کا کہنا ہے کہ اس آپشن سے دولت اسلامیہ کی قوت کو منتشر کرنے میں مدد ملے گی اور یہ 'داعش' کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے تعاقب کا مناسب طریقہ ہے۔

دوسرے آپشن میں شام میں داعش‌ کے زیر انتظام مرکزی شہر الرقہ میں تنظیم کے مراکز پر بمباری کرکے انہیں تباہ کرنا اور اسلحہ اور دیگر ذخائر کو ختم کرنا ہے۔ یہ محدود پیمانے کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں تنظیم کے اہم مراکز اور قائدین کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی وزارت دفاع کے ہاں زیر غور تیسرا آپشن شام میں داعش کے خلاف وسیع آپریشن کا آغاز ہے۔ اس آپشن میں شام میں داعش سے وابستہ ہر شخص کے خلاف کارروائی کرنا اور ملک کے طول وعرض میں موجود داعش کے تمام مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔ تاہم اس آپشن میں عام شہریوں کا جانی نقصان زیادہ ہونے کے احتمالات ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق کے برعکس شام میں داعش کےخلاف امریکی فوج کو کسی بھی زمینی اور فضائی آپریشن میں سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا یہ نہیں چاہے گا کہ جن شہروں پر داعش کا قبضہ ختم ہو تو وہاں شامی فوج اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

اگر الرقہ شہر میں داعش کا نیٹ ورک تباہ ہونے کے بعد شہر پر شامی فوج قبضہ کر لیتی ہے تو عالمی برادری میں یہ تاثر جائے گا کہ امریکا نے شامی باغیوں کے خلاف سازش کی ہے۔ باراک اوباما نے ایک لاکھ 90 ہزار شامی شہریوں کے قتل عام اور 70 لاکھ کو بے گھر کرنے کے مرتکب صدر بشار الاسد سے ساز باز کر لیا ہے اور وہ داعش کے خلاف نہیں بلکہ شام کی تحریک انقلاب کے خلاف میدان میں نکل پڑے ہیں۔

بعض دوسرے مبصرین کے خیال میں حماة، حمص، الرقہ اور دیر الزور جیسے شہروں جہاں داعش کی عمل داری ہے پر شام کی سرکاری فوج باآسانی قبضہ نہیں کر سکتی۔ شامی فوج سے پہلے اپوزیشن کی فورسز ان شہروں میں داخل ہو جائیں گی۔ تاہم مکمل قبضے کے لیے شامی اپوزیشن کو بھی طویل جنگ لڑنا پڑے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کی حدود میں امریکی فضائی حملوں کے لیے بشارالاسد کی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ شامی محکمہ دفاع کے رڈارز منٹوں میں تباہ کرنا امریکی جنگی طیاروں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نیز شامی فوج کے راڈار ابھی صحیح طور پر شناخت بھی نہیں کر پائیں گے کہ امریکی جیٹ طیارے کارروائی کے بعد ہوا ہو چکے ہوں گے۔

شام میں داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا کو ایک دوسرے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ چیلنج صدر بشارالاسد کا نہیں بلکہ اپوزیشن گروپوں میں موجود دھڑے بندی کا ہے۔ شامی اپوزیشن میں شامل بعض گروپوں پر امریکا اعتبار نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کو بہ یک وقت ایک طرف داعش سے نمٹنا ہو گا اور دوسری جانب اسے اپوزیشن کے تمام عسکری اور سیاسی گروپوں سے بھی ڈیلنگ کرنا ہو گی۔

شامی اپوزیشن کے سربراہ ھادی البحرہ نے اپنے ملک میں امریکی فوج کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ کانفرنس کے ارکان کو لکھے گئے ایک مکتوب میں ان کا کہنا ہے کہ "فضائی حملوں سے دہشت گردوں کی کمر توڑنے اور انہیں غیر معمولی جانی ومالی نقصان سے دوچار کرنے میں مدد ملے گی"۔ تاہم انہوں ‌نے یہ بھی کہا کہ امریکا یا کسی بھی دوسرے ملک کے فضائی حملے شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج جیش الحر کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونے چاہئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شامی اپوزیشن امریکا کو داعش کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے امریکی حکومت کو اس پیش کش کے بارے میں آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

اپوزیشن ترکی کے شہر الریحانیہ میں ایک مشترکہ کنٹرول روم کی بھی کوشش کر رہی ہے، جس میں ترک حکام، امریکی، شامی اپوزیشن، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کے نمائندے موجود رہیں گے۔ وہیں سے امریکی فوج کو حملوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی اور کنٹرول روم کی ہدایت پر شام میں مختلف اہداف پر حملے کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں