حماس، اسرائیل سے براہ راست بات چیت کو تیار

صہیونی ریاست سے مذاکرات کی کُلی ممانعت نہیں ہے:موسیٰ ابو مرزوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو القدس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''حماس اسرائیلیوں کے ساتھ غزہ کی سرحدی گذرگاہوں اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق امور پر براہ راست بات چیت کے لیے آمادہ ہے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''جس طرح آپ ہتھیاروں کے ساتھ مذاکرات کرسکتے ہیں بالکل اسی طرح آپ بات چیت کے ذریعے بھی معاملہ کاری کرسکتے ہیں۔اب تک ہماری پالیسی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی رہی ہے لیکن دوسرے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ یہ ایک ایسا ایشو نہیں ہے کہ جس پر بات کرنے کی کُلی طور پر ممانعت ہے''۔

موسیٰ ابو مرزوق کا یہ انٹرویو جمعرات کی شب نشر ہونے والا تھا۔انھوں نے صہیونی ریاست کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا یہ اشارہ غزہ کی پٹی میں عارضی جنگ بندی کے دو ہفتے کے بعد دیا ہے۔ان کی جماعت کو مغرب کی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے اور انھوں نے فلسطینی علاقوں میں قومی حکومت کے قیام کے باوجود حماس پر ایک متوازی انتظامیہ قائم کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ موسیٰ ابو مرزوق کا انٹرویو نشر ہونے تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ اسرائیل اس بات پر اصرار کرتا چلا آرہا ہے کہ حماس جب تک اس کے برقرار رہنے کے حق کو تسلیم نہیں کرلیتی اور تشدد کی مذمت نہیں کرتی ہے،وہ اس وقت تک اس کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔

تاہم حماس کے نائب سربراہ نے انٹرویو میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ ان کی جماعت صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے جارہی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی پالیسی میں تبدیلی صدر محمود عباس سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاس ہے کیونکہ حماس کا خیال ہے کہ فلسطینی صدر غزہ کی پٹی پر ایک مرتبہ پھر اپنی عمل داری کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حماس غزہ میں عوام کے بنیادی اور فطری حقوق کی بازیابی کے لیے پالیسی میں تبدیلی پر مجبور ہوئی ہے کیونکہ انھیں فلسطینی اتھارٹی اور حکومت کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کے بیسیوں ادوار ہوئے ہیں اور ان کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہوا یا اسرائیلی جیلوں میں مقید فلسطینیوں کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔حماس اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ ماہ مصر کی ثالثی کے نتیجے ہی میں عارضی جنگ بندی ہوئی تھی۔تاہم فریقین کے درمیان ابھی مستقل جنگ بندی کا سمجھوتا طے نہیں پایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں