.

اخوان کے حامی وجدی غنیم کا قطر چھوڑنے کا اعلان

خلیجی ریاست کو کسی قسم کی سُبکی سے بچانے کے لیے فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مؤید علامہ وجدی غنیم نے قطر سے کہیں اور چلے جانے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ ''میں نے اپنے پیغام کو مصر سے باہر بھی لے جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قطر میں میرے بھائیوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے''۔انھوں نے قطری حکومت اور عوام کا اسلام اور مسلمانوں کے کاز کو آگے بڑھانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

قطری حکام نے فوری طور پر علامہ وجدی غنیم کے اس اعلان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ بعض مصری اخبارات نے ہفتے کے روز شائع ہونے والی اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ قطری حکومت نے اخوان المسلمون کے سات سینیر عہدے داروں کو ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے ایک رہ نما عمرو دراج نے اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اخوان کے متعدد ارکان قطر سے کہیں اور منتقل ہورہے ہیں تاکہ اس ملک کو کسی قسم سُبکی سے بچایا جاسکے''۔قطر میں مقیم اخوان کے دو سینیر ارکان نے عمرو دراج کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔

مصر اور قطر کے درمیان تعلقات میں گذشتہ سال جولائی میں سابق آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔اس دوران جماعت کے بہت سے ارکان نے ملک سے بھاگ کر قطر میں پناہ لے لی تھی۔

اخوان المسلمون کے سینیر عہدے داروں کو پناہ دینے پر قطر کے دوسری خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور سعودی عرب ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے دوحہ میں متعین اپنے سفیروں کو مارچ میں واپس بلا لیا تھا۔اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کردیا تھا اورمصر نے بھی اس قدیم جماعت کو دہشت گرد قرار دے دے تھا۔