بحرین میں 13 سالہ لڑکا باپ بن گیا!

انڈونیشئن خادمہ کے ہاں غیر قانونی بچے کی پیدائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی ریاست بحرین میں گھر یلوخادمہ کے طور پر کام کرنے والی ایک غیر شادی شدہ انڈونیشئن خاتون نے حال ہی میں ایک بچے کو جنم دیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ نو مولود کے باپ کی عمر محض 13 سال ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا پر اس خبر کے سامنے آنے کے بعد جہاں غیر قانونی طور پر بچے کی پیدائش میں خاتون کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے وہیں کچھ لوگ اسے من گھڑت کہانی کہہ کر اسے نظر انداز کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

مقامی اخبار"الایام" نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اخبار نے حکومت اور منامہ کے ایک اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ایک نولومود کو"تحفظ اطفال مرکز" لایا گیا۔ بچے کی رجسٹریشن کے وقت معلوم ہوا کہ اس کے والدین کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ حکام نے اس کی چھان بین اور تحقیقات شروع کیں اور بچے کے ڈی این اے کرنے سے ثابت ہوا کہ اس کا ولدہ ایک 13 سالہ لڑکا ہے۔ جو ایک انڈونیشئن گھریلو خادمہ کے کفیل کا بیٹا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ بچے کی ماں نے حمل کا پورا عرصہ معمول کے مطابق گھریلو کام جاری رکھا جس سے اس کے حاملہ ہونے کا شبہ نہیں ہو سکا تاہم بچے کی پیدائش سے قبل وہ واپس جانا چاہتی تھی لیکن اتفاق سے بچہ کچھ وقت پہلے ہی دنیا میں‌آ گیا اور راز فاش ہو گیا۔

تیرہ سالہ لڑکے کی خاتون وکیل ابتسام الصباغ نے بتایا کہ لڑکے کے والدین کو جب اس کے باپ بننے کی خبر ملی تو انہوں نے اسے سخت تشدد کا نشانہ بنایا ہے جبکہ گھریلو ملازمہ پر الزام ہے کہ اس نے لڑکے کو جبرا غیر شرعی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا تھا۔

منامہ میں نفسیاتی عوارض کی خاتون ڈاکٹر شریفہ سوار سے جب پوچھا گیا کہ کیا تیرہ سال کی عمر میں کوئی لڑکا باپ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ عمر کسی بھی بچے کی بلوغت ہی کا دور سمجھا جاتا ہے اور اس عمر میں بیشتر بچے باپ بننے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں