.

داعش نے شامی فوج کا جنگی طیارہ مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے شمالی شہر الرقہ میں شامی فوج کا ایک جنگی طیارہ مارگرایا ہے۔یہ طیارہ مبینہ طور پر الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ شامی فوج کے جولائی میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جنگی طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کے حملے کے بعد شامی طیارہ وادی فرات میں واقع شہر الرقہ میں ایک مکان پر گر تباہ ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین میں موجود لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

داعش نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس تباہ شدہ طیارے کی تصویر پوسٹ کی ہے جس میں اس کو آگ لگی ہوئی ہے۔ایک اور اکاؤنٹ پر طیارے کو تباہ کرنے پر''دولت اسلامی کے شیروں'' کو مبارک باد دی گئی ہے۔

شامی فوج نے جون میں دولت اسلامی کی جانب سے اپنے زیرنگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کے اعلان کے بعد دو صوبوں الرقہ اور دیر الزور کے علاوہ شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں بھی باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ہفتے کے روز دیرالزور کے قصبے تبنی میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ پر فضائی حملے میں سترہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے عراق اور شام میں داعش کی بیخ کنی کے لیے فضائی حملوں کا اعلان کیا تھا لیکن ترکی اور بعض دوسرے ممالک شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح صدر بشارالاسد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور وہ ایک مرتبہ پھر مضبوط ہوجائیں گے۔

شامی حکومت قبل ازیں اپنی سرزمین پر امریکا کے مجوزہ فضائی حملوں کی مخالفت میں کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کو ملکی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔تاہم ایک امریکی عہدے دار نے منگل کوبیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر داعش کے خلاف کارروائی کے دوران بشارالاسد کی فوج علاقے میں امریکی فوج کی کام کرنے کی صلاحیت میں حائل ہوئی تو اس سے شام کی فضائی دفاعی صلاحیت خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔