.

شام داعش پر فضائی حملوں میں مزاحم نہ ہو: امریکی انتباہ

مزاحمت شامی فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے لیے خطرہ ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام کی بشار رجیم کو کھلے لفظوں میں انتباہ کر دیا ہے کہ داعش کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی تو شام کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکا نے عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو ماہ اگست کے آغاز سے نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے، جبکہ امریکا چالیس رکنی عالمی اتحاد کے ساتھ اب داعش کو شام میں بھی اپنی فضائی کارروائیوں کا ہدف بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی صدر اوباما کی طرف سے متعلقہ حکام کو داعش کے خلاف امریکی فضائی طاقت استعمال کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے تاکہ اس عسکریت پسند گروہ کے مضبوط مراکز کو تباہ کیا جا سکے۔

اس دوران بعض امریکی حکام نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر بشارالاسد نے کسی بھی طریقے سے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تو امریکی جنگی طیاروں کا جواب کیا ہونا چاہیے۔

اس کے جواب میں شام کو پیشگی بنیادوں پر خبردار کر دیا گیا ہے کہ امریکی فورسز کو شام کے فضائی دفاعی مراکز اور اثاثّوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ وہ کہاں کہاں موجود ہیں۔ نیز یہ بھی علم ہے کہ شام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کہاں سے آپریٹ ہوتا ہے۔

لہذا شامی رجیم کی طرف سے امریکی فضائی کارروائیوں کی کسی بھی طرح کی مزاحمت خود شامی فضائی دفاعی نظام اور خطے کے لیے خطرے کا موجب ہو گی۔

امریکا کی طرف سے اس امر پر بھی زور دے کر بتا دیا گیا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کے حوالے سے شام کے ساتھ کسی بھی صورت میں کوئی ربط ضبط نہیں رکھا جائے گا۔

واضح رہے امریکی صدر اوباما ایک طویل عرصے سے یہ موقف رکھتے ہیں کہ بشارالاسد کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے، یہ موقف پچھلے سال ماہ اگست میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد مزید شدت سے سامنے آیا تھا۔

اب داعش کے خلاف امریکا شامی باغیوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مضبوط دیکھنا چاہتا ہے جو بشارالاسد کے خلاف تین سال سے زائد عرصے سے لڑ رہے ہیں۔

امریکی صدر اوباما سے آج داعش کے خلاف کمان سنبھالنے والے سابق امریکی میرین کمانڈر جنرل جون ایلن وائٹ ہاوس میں ملاقات کر کے رہنمائی لیں گے۔

دوسری جانب امریکی سینئیر حکام کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک نے بھی داعش کے خلاف تشکیل پانے والے اتحاد میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے