.

شام سے اپنے جنگجو نہیں نکالیں گے: حزب اللہ رہ نما

داعش سمیت تمام تکفیری گروپوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی اہل تشیع مسلک کی شدت پسند عسکری تنظیم حزب اللہ کے ایک مرکزی رہ نما نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والے جنگجوؤں کو واپس نہیں ‌بلائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شام کے حوالے سے حزب اللہ پر بھی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارے جنگجو شام میں بدستور موجود رہیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حزب اللہ کی ایگزیکٹیو کونسل کے نائب صدر الشیخ نبیل فاروق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے اور داعش سمیت تمام تکفیری گروپوں کے درمیان صرف لفظی جنگ نہیں بلکہ ہم ایک دوسرے کے خلاف میدان جنگ میں مد مقابل ہیں۔ داعش اور دوسرے شدت پسند گروپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور حزب اللہ انہیں انجام سے دوچار کر کے چھوڑے گی۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ ہر آنے والے دن یہ حقیقت پوری اسلامی دنیا اور عالمی برادری پر واضح ہو رہی ہے کہ شام میں حزب اللہ کی موجودگی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہ ہمارے جنگجوؤں کو شام کا محاذ خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

الشیخ نبیل فاروق نے کہا کہ لمحہ موجود میں حزب اللہ کا شام میں موجود رہنا ناگزیر ہے کیونکہ ہمیں اپنے ملک کے اندر بھی اسی تکفیری معرکے کا سامنا ہے جس کا سابقہ ہمیں شام میں درپیش ہے۔ لبنانی سرحدی علاقے عرسال پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد حزب اللہ کے عسکری کردار کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

حزب اللہ رہ نما نے لبنان میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کی سیاست سے ملک مزید افراتفری کا شکار ہو گا۔ ملک کے تمام نمائندہ سیاسی طبقات کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں ‌نے کہا کہ ہم سب کی اولین ترجیح ملک میں امن واستحکام ہونا چاہیے۔ اس وقت لبنان کو اندرون اور بیرون ملک سے تکفیری دہشت گردوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ تکفیریوں کو شکست دینے کے لیے لبنانی جماعتوں کو ایک دوسرے پر تنقید کے بجائے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں دہشت گردوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے فوجی سپاہیوں کی واپسی مزید مشکل ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ ایک ماہ قبل داعش اور النصرہ فرنٹ نامی تنظیموں نے لبنان کے سرحدی قصبے عرسال پرحملہ کرکے تیس سے زائد لبنانی فوجی یرغمال بنا لیے تھے۔