.

جرمن مسلمانوں کی داعش کے خلاف تمام مذاہب کو دعوت

جمعہ کے روز لوگ بلا امتیاز مذہب مساجد کی اپیل پر جمع ہوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں قائم دو ہزار سے زائد مساجد نے دیگر تمام مذاہب کے پیرو کاروں کو دعوت دی ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں شریک ہوں تاکہ داعش سے لاتعلقی کا اجتماعی اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان مسلمانوں کے داعش سے متاثر ہونے کا تاثر دور ہو سکے۔

مساجد کے ذمہ داران کے مطابق یہ کال دینے کا مقصد اس تاثر کو دور کرنا ہے جو میڈیا کے ذریعے دیا جا رہا ہے کہ مسلمان نوجوان داعش میں شامل ہو رہے ہیں اور انتہا پسندانہ خیالات کے ساتھ واپس آ رہے ہیں۔

جرمنی میں یہ بات حکومتی سطح سے بھی کہی جا رہی ہے کہ داعش میں جانے والے نوجوان اندرونی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں جرمن مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن مذائق نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا '' ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر اسلام کی ترجمانی نہیں کرتے ہیں، ایسے جرائم پیشہ عناصر کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔''

مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اور گروپ بھی اس حوالے سے پر امن ریلیاں منعقد کر رہے ہیں۔ ان ریلیوں میں جرمنی کے وزیر داخلہ اور برلن کے مئیر کے بھی شریک ہونے کا امکان ہے۔

جرمن حکام کا اندازہ ہے کہ اب تک 400 کے قریب شہری داعش میں شامل ہو کر عراق اور شام میں عسکریت پسندوں کے ساتھ موجود ہیں۔ واضح رہے جرمنی میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے۔

ایک بیس سالہ نوجوان کے خلاف فرینکفرٹ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ شام میں داعش کا حصہ رہا ہے۔ اپنی نوعیت کا جرمنی میں یہ پہلا مقدمہ ہے۔

مسلمانوں کی مساجد کے ترجمان نے کہا ہے پورے جرمنی کے مسلمانوں کی طرف سے دی گئی کال میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں ، تاکہ داعش کے خلاف موثر آواز اٹھائی جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ''جو نوجوان ملک چھوڑ کر گئے ہیں یہ صرف مسلمانوں کا نہیں پوری جرمن سوسائٹی کا نقصان ہے۔''