داعش نے عراق میں ایوبی قلعہ دھماکے سے اڑا دیا

عراق میں آثار قدیمہ کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ کے خلاف شدت پسند تنظیم دولت اسلامی 'داعش' کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق داعش کے شدت پسندوں‌ نے عراقی شہر تکریت میں عظیم مسلمان سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے موسوم قلعہ دھماکے سے تباہ کر دیا۔

تکریت کے ایک مقامی صحافی صلاح الدین مروان ناجی الجبارہ نے العربیہ کو بتایا کہ گذشتہ روز داعش کے شدت پسندوں نے شہر میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں تعمیر کیا جانے والا تاریخی قلعہ بارود سے اڑا دیا۔

مروان ناجی الجبارہ نے بتایا کہ تکریت میں یہ قلعہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کی تاریخی اور تہذیبی نشانی کے طور پر پہنچانا جاتا تھا۔ اس قلعے کی اہمیت اس لیے دو چند تھی کہ صلیبیوں کے خلاف طویل جنگیں لڑنے والے سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1138ء میں اسی مقام پر آنکھ کھولی تھی، جہاں بعد ازاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے کم وبیش ایک ہزار سال پیشتر بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا تھا۔

خیال رہے کہ عراق میں صلاح الدین ایوبی قلعے کی مسماری کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ داعش کے دہشت گردوں نے اس سے قبل حضرت یونس، حضرت شیث اور حضرت جرجیس علیھم السلام جیسے جلیل القدر انبیاء کے مزارات کو بھی دھماکوں سے اڑایا۔

محکمہ آثار قدیمہ نے داعش کے زیر نگیں عراقی علاقوں میں تاریخی ورثے کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے ادارے سائنس وثقافت "یونیسکو" سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق کے تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے میں مدد کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں