شہزادی جوہرہ آل ابراہیم رواں سال کی بہترین شخصیت قرار

موروثی امراض کی روک تھام کے لیے کی جانے والی خدمات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات میں موروثی امراض کی روک تھام کے لئے سرگرام ایک ادارے نے خاتون سماجی کارکن شہزادی جوہرہ آل ابراہیم کی ان امراض سے بچاؤ کے لئے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں اُنہیں "عالمی ایوارڈ برائے شخصیت سال 2014ء " کا مستحق قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جینیاتی امراض کی روک تھام کی تنظیم کے چیئرمین اور متحدہ عرب امارات کے وزیر ثقافت وسماجی ترقی الشخ نھیان بن مبارک آل نھیان نے دبئی منعقدہ موروثی امراض کی آگاہی کے حوالے سے پانچویں سالانہ کانفرنس کے موقع پر انعامات تقسیم کیے۔ تقریب میں جوہرہ ابراہیم خود تو شریک نہیں ہو سکیں تاہم ان کے بھائی الشیخ ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے ان کا ایوارڈ وصول کیا۔ الشیخ ولید آل ابراہیم MBC کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں۔

خیال رہے کہ شہزادی جوہرہ آل ابراہیم سعودی عرب ممالک کی ایک متحرک سماجی کارکن ہیں لیکن موروثی امراض کی روک تھام کے حوالے سے ان کی خدمات سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے تعاون سے جدہ میں شاہ عبدالعزیز اور بحرین کی الخلیج یونیورسٹیوں میں ان کے نام سے"موروثی امراض پر تحقیقات کے لیے مراکز" قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس حوالے سے بعض دوسرے خلیجی ممالک میں بھی آگاہی مراکز اور مہمات شروع کر رکھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تقریب میں "ایم بی سی ون" کے علاقائی سطح پر موروثی امراض سے آگاہی اور اس کے بچاؤ' کے لیے پیش کیے جانے والے فلیگ شپ پروگرام "التفاح الاخضر" کو بھی اس باب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ ایوارڈ پروگرام کی ٹیم کی جانب سے MBC کے ڈائریکٹر جنرلعلی جابر نے وصول کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امارات میں موروثی امراض کی روک تھام کے لئے کوشاں تنظیم کی چیئرپرسن بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈاکٹر مریم محمد مطر نے جینیاتی امراض کی پھیلاؤ کے خاتمے کے لیے دنیا بھر بالخصوص عرب ممالک میں کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے موروثی امراض کی روک تھام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو سراہا وہیں اس نوعیت کی سرگرمیوں‌کو دیگر عرب اور مسلمان ممالک تک پھیلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر مطر نے کہا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ انعامات موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والوں کی خدمات کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف ایک حوصلہ افزائی ہے جس کا مقصد اس محاذ پر خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے حوصلے بڑھانا ہے اورعوام الناس میں اس کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

تقریب میں مقررین نے سال 2014ء کی بہترین شخصیت کا ایوارڈ حاصل کرنے والی سماجی کارکن جوہرہ آل ابراہیم کی خدمات کا تذکرہ کیا۔ موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور کاوش پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سعودی عرب اور بحرین میں" جینیٹک ڈیزیز ریسرچ سینٹرز" کے قیام کو بہترین قومی خدمت قرار دیا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر مطر کا مزید کہنا تھا کہ موروثی امراض کا تیزی سے پھیلاؤ صرف عرب اور خلیجی ممالک اک مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ اسے نمٹنے کے لیے چند ہاتھ کافی نہیں ہوں گے۔ اہل خیر حضرات بھی اس کی روک تھام کے لیے بڑھ چڑھ کر امداد فراہم کریں نیز حکومتوں کی سطح پر اس معاملے کو پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر اٹھایا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں